’کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ایم کیو ایم فرشتوں کی جماعت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحویل میں لیے جانے والے تمام افراد بشمول ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر عدالت میں پیش کیا گیا

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سمیت ان 27 افراد کو 90 دن کے لیے رینجرز کی تحویل میں دے دیا ہے جنھیں بدھ کو تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

ادھر ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ’فرشتوں کی جماعت‘ نہیں تاہم قانون ہاتھ میں لینے والوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ: تصاویر

بدھ کی صبح چار گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں رینجرز اہلکاروں نے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو اور خورشید بیگم میموریل ہال اور اطراف سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور سزا یافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کے علاوہ صحافی ولی خان بابر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا مجرم فیصل موٹا بھی شامل تھا۔

جمعرات کی سہ پہر زیرِ حراست ملزمان میں سے 27 کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے ایک مختصر سماعت کے بعد انھیں تفتیش کی غرض سے 90 دن کے لیے رینجرز کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

Image caption ہماری عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ اب تک جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا: فاروق ستار

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق رینجرز نے تحویل میں لیے جانے والے تمام افراد بشمول ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر عدالت میں پیش کیا جبکہ بقیہ افراد کے برعکس عامر خان کو ہتھکڑیاں بھی پہنائی گئی تھیں۔

رینجرز نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی پاداش میں ایم کیو ایم کے گرفتار کیے جانے والے کارکنان کے خلاف عزیز آباد تھانے میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کروا دیے ہیں۔

’فرشتوں کی جماعت نہیں‘

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے جمعرات کی شام کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کے لیے اور دہشت گردی کے لیے ایم کیو ایم میں کوئی گنجائش نہیں اور ان کی جماعت اپنے قائد الطاف حسین کی ’زیرو ٹالیرنس‘ کی پالیسی پر کاربند ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایم کیو ایم فرشتوں کی جماعت ہے۔ اگر ہماری صفوں میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے قانون ہاتھ میں لیا تو ہماری جماعت میں ایسے افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نائن زیرو پر چھاپے کا واقعہ ناقابل فہم اور سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ صورت حال جماعت کے لیے قابلِ تشویش ہے لیکن ان کی پریس کانفرنس کا مقصد رینجرز اور ایم کیو ایم کو مدِمقابل کھڑا کرنا یا فریق بنانا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاروق ستار کے مطابق رینجرز کی جانب سے نائن زیرو کے ’نوگو ایریا‘ ہونے کا جو تاثر دیا گیا ہے وہ غلط ہے

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ رینجرز نے چند مطلوب افراد کو پکڑنے کے لیے جو آپریشن کیا اس کے دوران 110 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے بیشتر کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ان کی جماعت اس طرح کے سلوک کی حقدار نہیں تھی اور قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران ’ہماری عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ اب تک جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ چھاپے کے دوران اس کا کارکن وقاص علی رینجرز کی فائرنگ سے ہی ہلاک ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس واقعے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں جس کی بنا پر قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ رینجرز کی جانب سے نائن زیرو کے ’نوگو ایریا‘ ہونے کا جو تاثر دیا گیا ہے وہ غلط ہے۔

چھاپے کے دوران اسلحے کی برآمدگی پر بات کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ لائسنس یافتہ اسلحہ تھا جو نائن زیرو کی حفاظت اور دہشت گردوں سے بچاؤ کے لیے رکھا گیا تھا اور ان کی جماعت کو دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد اسلحہ رکھنا ان کا حق ہے۔

اسی بارے میں