’حکومت واپسی کی تاریخ دے ورنہ خود چلے جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جو ان دنوں مختلف علاقوں میں آباد ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے عمائدین نے ایک گرینڈ جرگے میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی واپسی کا فوری طور پر اعلان کیا جائے ورنہ وہ تمام متاثرین کے ہمراہ خود اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو جائیں گے۔

شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما جمعرات کو بنوں شہر میں ایک مرتبہ پھر سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔

اس گرینڈ جرگے میں عمائدین نے اپنے مسائل بیان کیے اور شاید کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جو انھوں نے بیان نہ کیا ہو۔ لوگوں کو درپیش مسائل اور ان کی وطن واپسی پر حکومت کی خاموشی کی وجہ سے اکثر قبائلی رہنما غصے میں تھے۔

قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ متاثرین نقل مکانی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب ان کے خیموں اور گھروں پر اب چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

قبائلی رہنما ملک خان مرجان وزیر نے بتایا کہ جرگے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیر کو پشاور میں فاٹا سیکریٹیریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے اور اس کے بعد سیاسی رہنماؤں سے رابطے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کی واپسی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تو قبائلی رہنما اپنی قوم کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ پھر اپنی قوم اور عوام کے ساتھ ہوں گے، وہ جدھر انھیں لے چلیں، چاہے وزیرستان بھی لے جائیں، وہ ان کی بات مانیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جرگے کے ایک رکن اور قبائلی رہنما ملک نثار علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر حکومت نے ان کی واپسی کا اعلان نہ کیا تو وہ متاثرین کے ہمراہ خود اپنے علاقے کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر انھوں نے حکومت کو موقع دیا ہے اور اگر اس بار بھی حکومت نے وعدہ خلافی کی اور ان کی واپسی کو یقینی نہ بنایا تو پھر دس لاکھ متاثرین وزیرستان کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جو ان دنوں مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ ان لوگوں نے بڑی تعداد میں خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں خیمے لگا رکھے ہیں۔ بنوں لنک روڈ پر ایک خیمے میں موجود شیر ایاز نے بتایا کہ ان کے گھرانے کے 11 افراد ایک خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون سے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے

انھوں نے کہا کہ ’مہینے کے راشن میں آٹے کے دو تھیلے اور پانچ کلو گھی ملتا ہے، یہ 11 افراد کے لیے کیسے پورا ہو؟ اس لیے پھر اپنے پیسوں سے خریدتے ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’اب تو سب جمع پونجی ختم ہو چکی ہے گزارہ مشکل ہوگیا ہے۔‘

حکومت نے ان متاثرین کی واپسی کے اعلانات کیے اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کی واپسی کا عمل وسط مارچ سے شروع ہو گا لیکن اب تک اس پر عمل درآمد کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

حکومت نے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی کچھ دیہاتوں میں واپسی کا اعلان کیا ہے جو 16 مارچ سے شروع ہو گی۔

فوج کے ترجمان کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کا اس فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کیا جا چکا ہے۔ قبائلی رہنماؤں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ جو علاقے شدت پسندوں سے صاف کیے جا چکے ہیں وہاں لوگوں کو واپس بھیج دیا جائے۔

اسی بارے میں