زہرہ شاہد قتل کیس ہائی کورٹ سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption زہرہ شاہد کو 2013 میں کراچی میں قتل کیا گیا تھا

پاکستان تحریک انصاف کی 2013 میں قتل ہونے والی رہنما زہرہ شاہد کا کیس سندھ ہائی کورٹ سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت 21 مارچ کو زہرہ شاہد قتل کیس کی سماعت کرے گی۔

بتایا گیا ہے کہ اس کیس میں ملوث ملزموں پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں زہرہ شاہد کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کی چشم دید گواہوں نے شاخت کی تھی جن کے نام راشد عرف ماسٹر اور زاہد عباس زیدی بتائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ٹی آئی نے زہرہ شاہد کے قتل کی مذمت میں کئی روز تک احتجاج کیا تھا

ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو نے راشد عرف ماسٹر کی گرفتاری کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ ڈکیتی یا لوٹ مار کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ تھی جبکہ ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ کا دعویٰ تھا کہ ملزم راشد ماسٹر کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، جس کی پیدائش حیدرآباد کی ہے لیکن بعد میں اس کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا تھا۔

تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کو مئی 2013 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا، جس پر تحریک انصاف کی جانب سے کئی روز تک احتجاج جاری رہا تھا۔

اسی بارے میں