نائن زیرو سےگرفتار 85 افراد کی عدالت میں پیشی، 22 رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحویل میں لیے جانے والے افراد میں ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان بھی شامل ہیں

11 مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے اب تک 85 کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے جبکہ ان میں سے 22 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

رینجرز نے کراچی میں جمعے کو ایم کیو ایم کے مزید 58 کارکنان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جن میں سے 32 افراد کو عدالت نے تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے تحت 90 روز کے لیے رینجرز کے حوالے کر دیا۔

نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ: تصاویر

فیصل موٹا اور عبید کے ٹو سمیت دیگر 26 ملزمان کو 25 مارچ تک پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔

تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے تحت رینجرز کے پاس ایسے اختیارات ہیں کہ جن افراد پرسنگین جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہو انھیں 90 روز تک بغیر کسی ایف آئی آر اور ثبوت کےاپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں۔

جمعرات کو بھی ایم کیو ایم کے رابطہ کمیٹی کے ممبر اور سینیئر رہنما عامرخان سمیت 27 ملزمان کو 90 روزہ ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نائن زیرو پر چھاپے میں گرفتار کیے گئے تین افراد کو جمعرات کو روز تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ جمعے کو مزید 19 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ان تمام افراد کو رینجرز نے بدھ کو ایم کیو ایم تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا تھا۔

ادھر ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ’فرشتوں کی جماعت‘ نہیں ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے والوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

Image caption ہماری عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ اب تک جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا: فاروق ستار

بدھ کی صبح چار گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں رینجرز اہلکاروں نے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو اور خورشید بیگم میموریل ہال اور اطراف سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور سزا یافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کے علاوہ صحافی ولی خان بابر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا مجرم فیصل موٹا بھی شامل تھا۔

’فرشتوں کی جماعت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاروق ستار کے مطابق رینجرز کی جانب سے نائن زیرو کے ’نوگو ایریا‘ ہونے کا جو تاثر دیا گیا ہے وہ غلط ہے

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے جمعرات کی شام کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کے لیے اور دہشت گردی کے لیے ایم کیو ایم میں کوئی گنجائش نہیں اور ان کی جماعت اپنے قائد الطاف حسین کی ’زیرو ٹالیرنس‘ کی پالیسی پر کاربند ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایم کیو ایم فرشتوں کی جماعت ہے۔ اگر ہماری صفوں میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے قانون ہاتھ میں لیا تو ہماری جماعت میں ایسے افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نائن زیرو پر چھاپے کا واقعہ ناقابل فہم اور سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ صورت حال جماعت کے لیے قابلِ تشویش ہے لیکن ان کی پریس کانفرنس کا مقصد رینجرز اور ایم کیو ایم کو مدِمقابل کھڑا کرنا یا فریق بنانا نہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ رینجرز نے چند مطلوب افراد کو پکڑنے کے لیے جو آپریشن کیا اس کے دوران 110 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے بیشتر کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ چھاپے کے دوران اس کا کارکن وقاص علی رینجرز کی فائرنگ سے ہی ہلاک ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس واقعے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں جس کی بنا پر قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ رینجرز کی جانب سے نائن زیرو کے ’نوگو ایریا‘ ہونے کا جو تاثر دیا گیا ہے وہ غلط ہے۔

چھاپے کے دوران اسلحے کی برآمدگی پر بات کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ لائسنس یافتہ اسلحہ تھا جو نائن زیرو کی حفاظت اور دہشت گردوں سے بچاؤ کے لیے رکھا گیا تھا اور ان کی جماعت کو دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد اسلحہ رکھنا ان کا حق ہے۔

اسی بارے میں