ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں چوتھی بار ایک ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کا کہنا تھا کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس شواہد ہونے کے باعث یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں رکھے

حکومتِ پنجاب نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ذکی الرحمنٰ لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز حکم دیا تھا کہ اگر ذکی الرمٰن کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہیں ہے تو ان کو رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ 13 فروری کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کر دی تھی۔

یہ چوتھی بار ہے کہ حکومت نے حکومت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں توسیع کی ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی ان دنوں اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں جبکہ ان کی ممبئی حملہ سازش تیار کرنے اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کو امن و امان کے خدشات کے سبب نظر بند رکھا گیا ہے۔ اسی کے خلاف ملزم کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

اس سے قبل 13 فروری کو ان کی نظر بندی میں توسیع اسلام آباد پولیس کی جانب سے لکھے جانے والے خط کی روشنی میں کی تھی۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

دوسری جانب لکھوی کی رہائی کے احکامات کے بعد بھارت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔

بھارت کا کہنا تھا کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس شواہد ہونے کے باعث یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں رکھے۔

بھارتی حکام نے پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔

اسی بارے میں