جنوبی وزیرستان: ایک ماہ قبل لاپتہ ہونے والے 13 افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ s
Image caption مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق محسود قبیلے کی ذیلی شاخ آباخیل سے بتایا جاتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ پہلے لاپتہ ہونے والے 13 افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

مرنے والے افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عسکری تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں مانداوو کے مقام سے سنیچر کی شام 13 افراد کی لاشیں برامد کی گئی جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والے افراد تقریباً ایک ماہ پہلے لاپتہ ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق محسود قبیلے کی ذیلی شاخ آباخیل سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم بعض ذرائع کے مطابق مرنے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے رہا ہے لیکن سرکاری طورپر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغواء کرکے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سڑک کے کناروں سے لاشیں ملنےکے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ہی گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی جانب سے جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے متاثرین کی واپسی اور بحالی کے مرحلہ وار پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس اعلان کے مطابق جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا عمل پیر 16 مارچ سے شروع کیا جارہا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ جنوبی وزیرستان میں 2009 میں فوج کی جانب سے محسود قبیلے کے علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔

ان کاروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر ڈیرہ اسمعیل خان اور دیگر علاقوں میں پناہ لے لی تھی۔ تاہم کچھ متاثرین پہلے ہی اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ چکے ہیں لیکن اکثریتی آبادی بدستور اپنے طورپر کرائے کے مکا نات یا رشتہ داروں کے ہاں پناہ گزین ہیں۔

گورنر نے بھی کہا کہ خیبر ایجنسی کا علاقہ باڑہ اور شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل بھی اس ماہ کے آخر سے شروع کیا جارہا ہے تاکہ ان متاثرین کو باعزت طریقے سے اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جاسکے۔

اسی بارے میں