چرچ حملے کے بعد یوحنا آباد میں کشیدگی، رینجرز تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور گوجرانوالہ شہر میں کئی مقامات پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں

پاکستان کے شہر لاہور میں گذشتہ روزگرجا گھر پر ہونے والے بم دھماکوں کے خلاف مسیحی برادری کے پرتشدد احتجاج کے بعد لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق لاہور کے سی سی پی او نے حالات پر قابو پانے کے لیے یوحنا آباد میں رینجر کو مدد کے لیے بلایا تھا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیاگیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب نے مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہری کے قتل میں ملوث افراد کی فوری گرفتار کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت پنجاب اور مسیحی برادری کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ مذاکرات میں لاہور میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنا کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

گذشتہ روز یوحنا آباد کے علاقے میں گرجا گھر کے گیٹ پر ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں شامل جماعت الحرار نے یوحنا آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر پاکستان کی قومی اسمبلی میں گذشتہ روز یوحنا آباد میں ہونے والے حملے کے بعد مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

بم دھماکوں کے بعد آج دن بھر یوحنا آباد کے قرب و جوار میں مشتعل مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے اور ٹائر جلا کے فیروز پور بند کردیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔گرجا گھر پر حملے کے خلاف مسیحی افراد نے لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور گوجرانوالہ شہر میں کئی مقامات پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔

بشپ آف لاہور عرفان جمیل نے مظاہرین کے پرتشدد رویے کی مذمت کی ہے اور مسیحی برادری سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے قریب نہ آنے دیا اور اُن پر بھی پتھراؤ کیا۔ مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ وہاں موجود پرائیویٹ گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور دکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ہماری حفاظت کی جانے چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیا اور اُن پر بھی پتھراؤ کیا

ایک دوسرے شخص نے کہا ’کبھی ہمارے گاؤں اور کبھی ہماری بستیاں جلائی جاتی ہیں۔ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے میں اپیل کرتا ہوں کہ حکومت ان دہشت گردوں کو سنبھالے۔‘

گذشتہ روز یوحنا آباد میں چرچ کے گیٹ پر دو خودکش دھماکوں کے بعد مظاہرین نے دو مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ڈی آئی جی پولیس حیدر اشرف نے کہا کہ مشتعل ہجوم نے حملہ آوروں سے تعلق کے شک میں دو افراد کو آگ لگا کر ہلاک کیا۔

مظاہرین کی جانب سے ہلاک کیے گئے ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے ۔ جس کا نام محمد نیعم تھا۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے مقتول شخص نعیم کو ہلاک کرنے والوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ شک کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ایسا سلوک انسانیت سوز واقعہ ہے۔

اسی بارے میں