پانچ سال بعد جنوبی وزیرستان واپسی پر’انجانا خوف‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ خاندان خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک سے جنوبی وزیرستان روانہ ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ پانچ سال بعد سوموار سےشروع کر دیا گیا ہے۔

اس مرحلے میں دو تحصیلوں سراروغہ اور سروکئی کے مختلف دیہاتوں کے رہائشیوں کی واپسی ہوگی۔ متاثرین کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرنے والے پولیٹکل انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ آج تقریباً 250 خاندان سروکئی تحصیل کے تین دیہاتوں دیبہ ، ڈھنکچ اور مولا خان سرائے کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

یہ خاندان خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک سے روانہ ہوئے ہیں اور حکام کے مطابق انھیں اپنے علاقوں کو روانگی کے لیے مالی امداد دی جا رہی ہے ۔ پولیٹکل انتظامیہ کے افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متاثرین کی واپسی کا یہ سلسلہ چار اپریل تک جاری رہے گا اور اس کے لیے اب تک پانچ ہزار خاندان رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔

تحصیل سروکئی کے دیہاتوں کے لیے روانہ ہونے سے پہلے متاثرین نے ضلع ٹانک سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ ایک انجانا خوف ضرور ہے ۔

محمد خالد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سروکئی تحصیل کے علاقے مولا خان سرائے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں مکان منہدم ہو چکے ہیں اور انھیں حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی جبکہ انھیں کہا گیا ہے کہ انھیں رقم ان کے آبائی علاقے میں پہنچنے کے چند دنوں کے بعد دی جائیں گی، اب معلوم نہیں انھیں یہ رقم کب ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ہیں، پینے کے پانی کا مسئلہ ہوگا اور اس کے علاوہ وہ وہاں کیسے رہیں گے یہ ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں جا کر جائزہ لیں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے علاقے کو آباد کریں لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو وہ واپس آجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جن علاقوں کو واپسی ہو رہی ہے وہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے ایف آر کے علاقے کے قریب واقع ہیں

ایک متاثرہ نوجوان علی خان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد ہیں جو اپنے گھر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی کے انتظامات بہتر ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ جن لوگوں نے رجسٹریشن وقت پر کرائی تھی انھیں دس ہزار روپے مل چکے ہیں اور پچیس ہزار روپے فراہم کرنے کے لیے اے ٹی ایم کارڈز دیے گئِے ہیں لیکن تاخیر سے آنے والے افراد کو یہ ادائیگی بعد میں کی جائے گی۔

اکثر متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان کے علاقے میں بیشترمکان تباہ ہو چکے ہیں اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ وہاں کیا کریں گے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ جن علاقوں کو واپسی ہو رہی ہے وہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے ایف آر کے علاقے کے قریب واقع ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے دیگر علاقوں کو اب تک واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں سال 2009 میں فوجی پریشن راہ نجات شروع کیا گیا تھا جس سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد نقل مکانی کرکے ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے کچھ علاقوں میں پہلے بھی کچھ لوگ واپس جا چکے ہیں۔

ادھر سوموار کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے متاثرین اور ان کے قبائلی رہنماؤں نے فاٹا سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے گھروں کو واپسی یقینی بنائی جائے اور اس عمل کے لیے انھیں بھی اعتماد میں لیا جائے کیونکہ شمالی وزیرستان کے حوالے سے انھوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے ۔

Image caption شمالی وزرستان میں گذشتہ سال جون میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا جس سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں

مظاہرے میں شامل ملک غلام خان ، ملک نثار علی خان اور ملک شمس الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حکومت کے شکر گزار ہیں کہ ان کی واپسی کے لیے تاریخ کا اعلان کیا گیا لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ اس پر عمل درآمد ضرور کیا جائے۔

شمالی وزرستان میں گذشتہ سال جون میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا جس سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں نے چند روز پہلے ضلع بنوں میں ایک گرینڈ جرگے میں کہا تھا کہ اگر ان کی واپسی کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ اسلام آباد یا وزیرستان کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیں گے۔ حکومت نے چند روز پہلے اب شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کے لیے 31 مارچ کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے پہلے حکومت نے کہا تھا کہ متاثرین شمال وزیرستان کو وسط مارچ میں اپنے آبائی علاقوں میں بھیج دیا جائے گا۔

اسی بارے میں