پنجاب میں مزید دس اور سندھ میں دو مجرموں کو پھانسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں پھانسیوں کا سلسلہ گذشتہ برس دسمبر سے شروع ہوا تھا

پاکستان میں حکومت کی جانب سے تمام قسم کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزا کی اجازت دیے جانے کے بعد مزید 12 افراد کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

یہ پھانسی پر عملدرآمد سے پابندی ہٹنے کے بعد اب تک ایک ہی دن میں دی جانے والی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کی صبح صوبہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں دس اور سندھ میں دو قیدیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔

سب سے زیادہ پھانسیاں ضلع جھنگ میں ہوئیں جہاں ڈسٹرکٹ جیل میں سزائے موت کے تین قیدیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔

پھانسی پانے والوں میں مبشر عباس، محمد شریف اور ریاض نامی مجرم شامل تھے جنھیں قتل کے مختلف مقدمات میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ میانوالی اور روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بھی دو، دو قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔

میانوالی میں سزائے موت پانے والے دونوں قیدی رب نواز اور ظفر اقبال بھی قتل کے مجرم تھے جبکہ راولپنڈی میں بھی قتل کے مقدمات میں ہی ملک ندیم اور محمد جاوید کی سزائے موت پر عمل درآمد ہوا۔

فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں پھانسی گھاٹ کی تعمیر کے بعد وہاں بھی پھانسیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کی شب بھی وہاں سزائے موت کے قیدی محمد نواز کو پھانسی دی گئی جس نے 1992 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

فیصل آباد کے علاوہ سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں شادی کے تنارع پر اپنے چچا کو 1996 میں قتل کرنے والے اقبال نامی شخص کو پھانسی دی گئی جبکہ ملتان میں ڈکیتی کے دوران ایک شخص کو قتل کرنے پر وقار نامی شخص کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

سندھ میں دی جانے والی دونوں پھانسیاں کراچی کی سینٹرل جیل میں دی گئیں اور یہ دونوں مجرم محمد فیصل اور محمد افضل بھی قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ تھے اور انھیں 1999 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی دس تاریخ کو وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا تھا کہ سزائے موت پانے والے تمام ایسے مجرموں کی سزا پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے جن کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

اس سے پہلے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے فوراً بعد حکومت نے صرف دہشت گردی میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی سابق صدر آصف علی زرداری نے سنہ 2008 میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد عائد کی تھی۔

اسی بارے میں