’شفقت حسین کی پھانسی کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے‘

Image caption شفقت حسین کو 14 سال کی عمر میں ایک بچے کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی عدالتِ عالیہ نے 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا اور پھر قتل کے جرم میں موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ادھر وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ شفقت حسین کی پھانسی کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے اور اگر ان کی عمر کا کوئی مصدقہ ریکارڈ پیش کیا جائے تو حکومت اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

شفقت حسین کو 19 مارچ کو پھانسی دی جانی ہے اور اس سلسلے میں کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ان کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کر چکی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے منگل کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں فیصلہ دے چکی ہے لہٰذا اسی سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں منگل کو تقریر کے دوران چوہدری نثار نے اس معاملے پر کہا کہ یہ انسانی جان کا معاملہ ہے اور اسے سیاست سے علیحدہ رکھنا چاہیے تھا تاہم پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے اس پر باقاعدہ بیان بازی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ابتدائی طور پر ان کے علم میں یہ معاملہ آیا تو پھانسی کا دن طے کرنے تک بات پہنچ چکی تھی، تاہم پھانسی کی تاریخ ملتوی کروا دی گئی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ شفقت کی عمر کے معاملے کی ’دو ماہ سے انکوائری ہو رہی ہے۔ نہ اس کے والد کا کارڈ ملا نہ ہی والدہ کا کارڈ ملا۔ کل بھائی کا کارڈ ملا ہے جس کی عمر 44 سال ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی تجویز دی لیکن ’آج حکومتِ سندھ کا مراسلہ ملا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عدالتی فیصلے کے منافی ہو گا۔‘

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ شفقت کے معاملے میں عمر کی وضاحت کے بغیر بات آگے بڑھنا ممکن نہیں: ’کراچی جیل کے ریکارڈ کے مطابق جب اسے (شفقت کو) جیل میں ڈالا گیا تو ڈاکٹر نے اس کی عمر 25 سال اور جیل حکام نے 23 سال لکھی۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’ہم مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرنا چاہتا ہے تو ایسے کوائف سامنے لائے جس سے شفقت کی عمر کی تصدیق ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلا مرحلہ عمر کا کوئی ریکارڈ سامنے لایا جانا ہے تاکہ یہ ثابت ہو کہ جب سزا سنائی گئی تو اس وقت عمر صحیح نہیں تھی اور اگر کوئی بھی مصدقہ کوائف ہیں تو ہم اسے دیکھنے اور اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں