باجوڑ ایجنسی میں پولیو ٹیم پر حملہ، ایک ہلاک

Image caption 2015 میں پاکستان میں پولیو کے 20 کیسز سامنے آئے ہیں: ایمرجنسی آپریشن سیل

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پولیو ٹیم پر نامعلوم افراد کے حملے میں ایک رضاکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کی صبح کمان گرہ میں نواگئی کے مقام پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے رضا کاروں پر حملہ ہوا جس میں ایک رضاکار ہلاک ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’انسدادِ پولیو ٹیم کے رکن روح اللہ اور ان کے ساتھی کو نامعلوم افراد نے گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں روح اللہ ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے ساتھی زخمی ہیں۔‘

یاد رہے کہ منگل کے روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں انسداد پولیو ٹیم پر نامعلوم افراد کے حملے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان میں پولیو ٹیموں پر یہ مسلسل دوسرا حملہ ہے۔

منگل کو مانسہرہ سے مغرب کی جانب 40 کلومیٹر کی فاصلے پر پہاڑی علاقے میں واقع گاؤں ڈنہ میں انسداد پولیو ٹیم کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو خاتون ہیلتھ ورکر اور ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں انسداد پولیو مہم کی ٹیموں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والی ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

قبائلی علاقہ جات اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بیشتر اضلاع اس حوالے سے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہیلتھ ورکروں، رضا کاروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی آپریشن سیل کے مطابق رواں سال قومی سطح پر مجموعی طور پر 20 کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ گذشتہ سال پاکستان میں 306 بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے تھے جن میں سے 68 کا تعلق خیبر پختونخوا اور 179کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا۔

اسی بارے میں