پنجاب میں مزید نو قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دسمبر میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر عائد پابندی اٹھائی گئی تھی تاہم تین ماہ بعد پھانسی کی سزا پر عائد پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت چھ شہروں کی جیلوں میں مزید نو قیدیوں کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ روز پنجاب اور سندھ میں 12 مجرموں کو پھانسی دی گئی تھی جو پھانسی کی سزا سے پابندی ہٹنے کے بعد ایک دن میں پھانسیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بدھ کو لاہور کے علاوہ جن شہروں میں پھانسیاں دی گئیں ان میں فیصل آباد، راولپنڈی، جھنگ، اٹک اور میانوالی شامل ہیں۔

سینٹرل جیل فیصل آباد میں بدھ کی صبح سعید احمد اور شفاقت علی نامی مجرموں کو پھانسی دی گئی۔

جیل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں قیدیوں کا تعلق شیخوپورہ سے تھا اور وہ قتل کے ایک ہی واقعے میں ملوث تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جیل میں اس وقت سزائے موت کے قیدیوں کی کل تعداد 45 کے لگ بھگ ہے۔

ضلع راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں دفعہ 302 کے مقدمے میں سزا یافتہ شوکت علی اور محمد بشیر کو پھانسی دی گئی۔

فتح جنگ سے تعلق رکھنے والے مجرم محمد شبیر نے 2006 میں شکیل احمد جبکہ گوجر خان کے رہائشی شوکت علی نے 1996 میں زاہد محمود نامی شخص کو قتل کیا تھا۔

ضلع جھنگ کی ڈسٹرکٹ جیل میں غلام محمد اور ذاکر حسین نامی افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں طاہر بشیر نامی مجرم کو پھانسی دی گئی۔

جیل انتظامیہ کے مطابق اس وقت وہاں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 500 ہے، تاہم ابھی مزید کسی قیدی کو پھانسی کے احکامات موصول نہیں ہوئے۔

ڈسٹرکٹ اٹک کی جیل میں میں قیدی اسد محمد خان کو تہرے قتل کی پاداش میں پھانسی دی گئی۔ جیل حکام کے مطابق اٹک جیل میں موت کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر قیدیوں کی تعداد 150 کے قریب ہے۔

سینٹرل جیل میانوالی میں پھانسی کی سزا پانے والے احمد نواز نے 1998 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا، جبکہ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہاں جمعرات کو عبدالستار نامی قیدی کو بھی پھانسی دی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی سابق صدر آصف علی زرداری نے سنہ 2008 میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد عائد کی تھی تاہم موجودہ حکومت نے اس پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

رواں ماہ کی دس تاریخ کو وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا تھا کہ سزائے موت پانے والے تمام ایسے مجرموں کی سزا پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے جن کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

اس سے پہلے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے فوراً بعد حکومت نے صرف دہشت گردی میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں