’پھانسی کے منتظر شفقت کا برتھ سرٹیفیکیٹ منظرِعام پر‘

Image caption میڈیا کو فراہم کیا جانے والا برتھ سرٹیفیکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا ہے۔

کراچی میں 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا کے جرم میں موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کے اہلِ خانہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ان کی سزا کم عمری کی بنیاد پر معاف کرنے کی اپیل کی ہے۔

بدھ کو مظفر آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

شفقت حسین کی پھانسی کے لیے 19 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور اس کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

تاہم منگل کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شفقت حسین کی عمر کا کوئی مصدقہ ریکارڈ پیش کیا جائے تو حکومت اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود ان کے اہلِ خانہ کی طرف سے پریس کانفرنس کے دوران شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ مہیا کیا گیا جس میں ان کی تاریخ پیدائش یکم اکتوبر 1991 درج ہے۔

صحافی رئیس خواجہ کے مطابق شفقت کے بڑے بھائی منظور حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ برتھ سرٹیفیکیٹ ان کی آبائی علاقے ٹاؤن کمیٹی کیل کے سیکریٹری کی جانب سے جاری ہوا ہے اور اس کے مطابق ان کی عمر اس وقت ساڑھے 23 سال ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق 2004 میں عدالت کی جانب سے سزائے موت کے وقت اس کی عمر 13 برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral
Image caption پریس کانفرنس میں شفقت کی بہن آبدیدہ نظر آئیں

میڈیا کو فراہم کیا جانے والا برتھ سرٹیفیکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا ہے۔

تاخیر سے سرٹیفکیٹ کے اجرا پر بات کرتے ہوئے منظور حسین کا کہنا تھا کہ ان کا علاقہ پسماندہ ہے اور برتھ سرٹیفیکیٹ کی فوری بنوائے جانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔

برتھ سرٹیفیکیٹ کے علاوہ پریس کانفرنس میں شفقت کے اہلِ خانہ کے شناختی کارڈوں کی نقول اور بیانِ حلفی بھی دکھائے گئے جن میں شفقت کی عمر کی تصدیق کے بیانات قلمبند کیےگئے ہیں۔

شفقت حسین کے مقدمے کی پیروی کرنے والی سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ کے کوارڈینیٹر یاسر شہباز کے مطابق وزارتِ داخلہ پاکستان کو برتھ سرٹیفیکیٹ سمیت تمام دستاویزات ای میل کر دی گئی ہیں اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے دفتر کو ’ہارڈ کاپی‘ بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

Image caption شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ دو مرتبہ جاری ہو چکے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ شفقت کی اپیل کی درخواست کے ساتھ بھی برتھ سرٹیفیکیٹ فراہم کیا گیا تھا لیکن عدالت کی جانب سے درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی تھی کہ سزائے موت سے قبل ٹرائل کے دوران برتھ سرٹیفیکیٹ پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ شفقت حسین کی زندگی کے لیے یہ لمحات کتنے اہم ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں شفقت حسین کے کیس کی پیروی کرنے والے اس کے بھائی گل زمان کو پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ شفقت کو 19 مارچ کو صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی ہوگی۔

گلستان جوہر تھانے کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے گل زمان سے رابط کر کے پھانسی کے اوقات سے آگاہ کیا ہے۔گل زمان کا کہنا ہے کہ اسے جیل کے حکام کی جانب سے آخری ملاقات کے لیے نہیں بلایا گیا نہ خاندان کے کسی اور فرد کو بلایا گیا ہے۔

شفقت حسین کے بڑے بھائی منظور حسین کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ شفقت سے ملاقات کے لیے کراچی جا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral
Image caption اہلِ خانہ کی طرف سے پریس کانفرنس کے دوران شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ مہیا کیا گیا