کراچی میں رینجرز پر بم حملے میں دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی میں اس سے پہلے بھی رینجرز اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں رینجرز کے اہلکاروں پر بم حملے میں دو اہلکار ہلاک اور دو راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک خودکش حملہ دکھائی دیتا ہے تاہم ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

واضح رہے کہ نارتھ ناظم آباد کچی پہاڑی کے علاقے سے زیادہ دور نہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شہر میں شدت پسندوں کا گڑھ ہے۔

اس سے قبل جمعے کو ہی کراچی میں ایک مسجد کے باہر کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے سے دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکہ کراچی کے علاقے آرام باغ میں نمازِ جمعہ کے بعد بوہری برادری کی مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب ہوا تھا۔

انچارج سی آئی ڈی یونٹ کراچی راجا عمر خطاب نے بی بی سی کو بتایا تھا ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ سات افراد زخمی ہیں۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی رینجرز اہلکاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

شہر میں ستمبر 2013 سے رینجرز کی سربراہی میں فرقہ واریت، بھتہ خوری، گینگ وار اور دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔

رینجرز نے اس آپریشن کے دوران درجنوں شدت پسندوں کی گرفتاری کے علاوہ بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

گذشتہ دنوں رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مار کر ٹارگٹ کلرز اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی بارے میں