پاکستانی میزائل بھارت کے لیے ’مخصوص‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گزشتہ دنوں سات برس کے بعد یوم پاکستان کی پریڈ میں دیگر اسلحے کے علاوہ میزائل بھی نمائش میں شامل تھے

پاکستانی حکومت کے ایک اہم مشیر نے کہا ہے کہ بھارت کو کسی قسم کی فوج کشی سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ’ٹیکٹیکل‘ جوہری ہتھیار موجود ہوں۔

جنرل ریٹائرڈ خالد قدوائی نے پیر کو کہا کہ اگر پاکستان خاص مقاصد کے لیے تھوڑے فاصلے تک مار کرنے والے (ٹیکٹیکل) جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کے خطرے میں اضافہ نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ خالد قدوائی نے ان خدشات سے بھی انکار کیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ نہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ کئی جوہری ماہرین کے خیال میں پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے دور تک مارنے کرنے والے ہتھیاروں کے بعد میدان جنگ میں استعمال ہونے والے قدرے چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے پر بین الاقوامی سطح پر اس خدشے میں اضافہ ہوا ہے کہ ملک میں اسلامی شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد اس بات کے امکانات زیادہ ہو گئے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں اور اگرچہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان امن مذاکرات کئی مرتبہ تھم کر دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی ایک ایسی دوڑ ہمیشہ جاری رہی ہے جس کے ختم ہونے کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

دونوں جوہری ملکوں میں سے کسی نے بھی کبھی اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کے بارے میں کھل کر بات نہیں کی ہے۔

تاہم امریکہ کے ایک مشاورتی ادارے یا تھنک ٹینک ’فارن ریلیشنز کمیٹی‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اتنا جوہری مواد موجود ہے کہ وہ 110 اور 120 کے درمیان جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے جبکہ بھارت 90 سے لے کر 110 جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔

خالد قدوائی 15 برس تک پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام کے سربراہ رہ چکے ہیں اور آج کل وہ پاکستان کی ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی‘ کے رکن ہیں جو کہ ملک کے بڑے بڑے فوجی اور غیر فوجی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی ہے جو جوہری ہتھیاروں کے بارے میں حمکت عملی طے کرتی ہے۔ وہ پیر کو واشنگٹن میں جوہری تحفظ کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام ’کارنیگی اینڈومنٹ فور انٹرنیشنل پِیس‘ نے کیا تھا۔

اسی کانفرنس میں شریک بھارت کے تخفیفِ اسلحہ کے ایک سابق مندوب، راکیش سود نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت بھی کی۔ مسٹر راکیش سود کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بنانا ایسی حرکت ہو گی جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔‘ اس سلسلے میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کا ٹیکنیکل جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارداہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملک کے یوم جمہویہ پر بھارت میں بھی میزائلوں کی نمائش کی گئی

مسٹر راکیش سود نے مزید کہا کہ پاکستان کی جوہری حکمت عملی ’ابہام کے لبادے‘ میں لپٹی رہی ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

دوسری جانب مسٹر قدوائی کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار جنوبی ایشیا میں جنگ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 37 میل (60 کلومیٹر) تک مار کرنے والے نصر نامی ٹیکٹیکل میزائل اس خطرے کے جواب میں بنائے کہ بھارت یہ سوچ کر کہ پاکستان کبھی بڑے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا، پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کی جا سکتی ہے۔

امریکہ کے سابق سینیئر دفاعی اہلکار پیٹر لیوائے نے مسٹر قدوائی سے پوچھا کہ آیا میدان جنگ میں روایتی فوجوں اور جوہری ہتھیاروں کے ملغوبے سے دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ نہیں جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں مسٹر قدوائی کا کہنا تھا کہ ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے حصول کے بعد جنگ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

مسٹر قدوائی کے بقول اگر آپ دیکھیں کہ ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے علاوہ پاکستان کے پاس کس قسم کے جوہری ہتھیار موجود ہیں، توتب بھی جنوبی ایشیا میں ’عقل حاوی رہے گی‘ کیونکہ دونوں ملک جانتے ہیں کہ اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ ’یقینی ہے کہ دونوں ملک تباہ‘ ہو جائیں گے۔

جہاں تک دور مار کرنے کے والے میزائلوں کا تعلق ہے تو پاکستان کے پاس شاہین-III بھی موجود ہے جس کا تجربہ پاکستان نے اسی ماہ کیا ہے۔ یہ میزائل 1700 میل (2750 کلومیٹر) تک مار کر سکتا ہے جس سے پاکستان نہ صرف بھارت کے ہر مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ اس میں مشرق وسطیٰ تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے اور یوں شاہین III سے پاکستان اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

مسٹر قدوائی کہتے ہیں پاکستان اتنی زیادہ دور تک مار کرنے والا میزائل بنانا چاہتا تھا کیونکہ پاکستان کو شک ہے کہ بھارت بحرِ بنگال میں انڈیمان اور نکوبار کے جزیروں پر اپنے فوجی اڈًے بنا رہا ہے، اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان نے اپنا میزائل پروگرام ’بھارت کو نظر‘ میں رکھ کر بنایا ہے نہ کہ کسی دوسرے ملک کو۔

سنہ 1999 میں پاکستانی افواج کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہو جانے کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں میں کوئی جنگ نہیں ہوئی ہے۔ کارگل کی اُس لڑائی میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔

لیکن جنگ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس عرصے میں دونوں ملکوں میں کبھی تناؤ نہیں آیا، بلکہ کبھی کبھی جنگ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے، مثلاً یہ خطرہ اس وقت بھی بہت بڑھ گیا تھا جب سنہ 2008 میں پاکستان میں مقیم دہشتگردوں نے بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں حملے کیے تھے جن میں 164 لوگ مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں