کنٹونمنٹ بورڈ کے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں حصہ لینا تمام سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے اور سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے کسی کو بھی روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے

پاکستان کی سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کنٹونمنٹ بورڈ میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

یہ درخواست پاکستان کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کی وساطت سے دائر کی ہے۔ اس درخواست میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں تو پھر کنٹونمنٹ بورڈ سیاسی جماعتوں کے لیے نوگو ایریا کیوں بنا ہوا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں حصہ لینا تمام سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے اور سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے کسی کو بھی روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

اس درخواست میں عدالت عظمی سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو کنٹونمنٹ بورڈ میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروانے سے روکے اور جماعت بنیادوں پر انتخابات کروانے کے شیڈول کا اعلان کیا جائے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈ میں بھی غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کو روکنے کے لیے درخواستیں دائر کی گئی ہیں جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو 26 مارچ میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار خورشید خان کے مطابق شروع سے ہی کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابی عمل غیر جماعتی بنییادوں پر ہوتا ہے اور وزارت دفاع اس ضمن میں کارروائی مکمل کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک کے 42 کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات 25 اپریل کو ہوں گے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔ ملک میں 43 کنٹونمنٹ بورڈ ہیں جبکہ بلوچستان میں اُڑماڑا کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود کے تعین کا مسئلہ چل رہا ہے اس لیے وہاں پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہور ہے۔

ملک کے 42 کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی روز میں ہوں گے اور اس ضمن میں ان کو 199 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں بیلٹ پیپرز سفید رنگ کے چھاپے گئے ہیں جس پر اُمیدوار کے نام کی بجائے اُس کا انتخابی نشان درج ہوگا اور اُمیدوار 5 ہزار روپے ادا کرکے انتخابات میں حصہ لینے کا فارم حاصل کرسکتے ہیں جبکہ انتخابی مہم پر دو لاکھ روپے تک اخراجات برداشت کرنے کی اجازت ہوگی۔

اسی بارے میں