لکھوی کی نظربندی کا فیصلہ پانچ دن میں کیا جائے: لاہور ہائیکورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ پنجاب کو 2008 کے ممبی حملوں کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی سے متعلق پانچ دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ذکی الرحمان لکھوی نے پنجاب حکومت کی جانب سے چوتھی بار اپنی نظربندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں انھوں نے اپنی نظربندی کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیرقانونی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

عدالت نے 20 مارچ کو اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انھیں محکمہ داخلہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

گذشتہ روز ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل کی جانب سے ایک اور درخواست لاہورہائیکورٹ میں دائر کی گئی جس میں یہ موقف اپنایا گیا تھا کہ ان کے موکل نے عدالت کے حکم پر محکمہ داخلہ سے رجوع کیا ہے تاہم نظربندی کے خلاف سیکریٹری داخلہ کو دی گئی درخواست پر ابھی تک فیصلہ نہیں دیا گیا۔

ذکی الرحمان لکھوی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی نظربندی غیرقانونی اور غیرآئینی ہے اور اس میں بار بار توسیع کر کے وفاقی اور صوبائی حکومتیں توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

جسٹس محمود مقبول باجوہ نے درخواست کی سماعت کی اور سیکریٹری داخلہ کو پانچ روز کے اندر ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی سے متعلق فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔

ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی میں چوتھی بار توسیع 14 مارچ کو کی گئی تھی جس سے ایک دن پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہیں تو انھیں رہا کیا جائے۔

ذکی الرحمان لکھوی ان دنوں اڈیالہ جیل میں نظربند ہیں جبکہ ان کی ممبی حملہ سازش کیس اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کو نقضِ امن کے خدشے کے پیش نظر بند رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم پر بھارت میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے نئی دلی میں تعینات پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو طلب کرکے باقاعدہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی ختم کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔

ممبی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ نومبر 2008 کے ممبی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس ثبوت ہیں اور پاکستانی حکومت کی یہ ذمےداری ہے کہ وہ انھیں جیل میں رکھے۔

ممبی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں