’یمن کے اندر فوجی کارروائیاں، پاکستان حصہ لینے کے لیے راضی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان نے یمن میں سعودی عرب کے آپریشن کی حمایت کی ہے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی قبائل کے خلاف کارروائیوں میں اسے پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اس جنگ میں حصہ لینے کو بھی تیار ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب کو یمن کے حوثی قبائل کے خلاف مراکش، مصر اور سوڈان کی حمایت بھی حاصل ہے اور یہ ممالک ضرورت پڑنے پر جنگ میں عملی طور پر بھی شریک ہو سکتے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ریاستوں کے اتحاد ’خلیج تعاون کونسل‘ کے رکن ممالک سعودی عرب، بحرین کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اتفاق کیا ہے کہ وہ یمن کے صدر عبدالربو منصور ہادی کی جانب سے مدد کی درخواست کا مثبت جواب دیں گے۔

گزشتہ روز تک سعودی حکام کہہ رہے تھے کہ وہ یمن کے اندر کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور یمن کی سرحد پر سعودی عرب کی فوج میں اضافہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

قبل ازیں پاکستان کی حکومت نے تصدیق کی کہ یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کے لیے سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا کہ سعودی حکومت نے اس سلسلے میں پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا یمن میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان اپنی فوج بھیجیےگا اور سعودی عرب کو کس قسم کی مدد فراہم کی جاسکتی ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سے قبل امریکہ میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے کہا تھا کہ ان کی فوج نے یمن کے صدر منصور ہادی کی درخواست پر فوجی آپریشن شروع کیا ہے اور یہ آپریشن دارالحکومت صنعا پر قبصہ کرنے والے شیعہ حوثی قبائلیوں کے خلاف ہو رہا ہے۔

امریکہ میں سعودی کے سفیر عادل الجبير کے مطابق یمن کے صدر عبدالربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کو بچانے کے لیے ان کے ملک نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

سعودی سرکاری ٹی وی کے مطابق سعودی عرب نے یمن میں حکومت مخالف باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سو جنگی جہاز فراہم کیے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ سعودی فوجی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

اردن نے بھی اپنے لڑاکا طیارے یمن میں کارروائی کے لیے بھیجے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں سعودی آپریشن کو سوڈان، موراکو، مصر اور پاکستان کی حمایت حاصل ہے ۔ ان ممالک نے وقت پڑنے پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

یمن کے صدر کی درخواست پر سعوری عرب ، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات عملی طور پر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں ایران کی حمایتی شیعہ حوثی قبائلی تیزی سے پیش قدمی کی ہے

دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ حوثی قبائلی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حوثی قبائلی جنگجو عدن شہر پر قبضہ کرنے کے قریب ہیں اور اس وقت شہر کے مضافات میں جھڑپیں جاری ہیں۔

شہر عدن کی جانب قبائلیوں کی پیش قدمی کے بعد صدر منصور ہادی صدارتی محل سے فرار ہو کر کسی نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت عدن شہر کے مضافات میں قبائلیوں کی صدر ہادی کی حامی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہو رہی ہیں جبکہ شہر کے ہوائی اڈے پر باغیوں نے قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسی بارے میں