وزیرِ اعظم کی یمن سے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یمن میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کی فوری انخلا کی ہدایات دی ہیں۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق یمن میں مقیم خاندانوں کو موجودہ صورتحال میں ریاستی نظام کے تباہ ہونے کی صورت میں اغوا سمیت ہر طرح کے جرائم کا خطرہ لاحق ہے۔

لہٰذا وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ جنگی بنیادوں پر پاکستانی خاندانوں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے انھیں وہاں سے نکالا جائے۔

بخشو سب کا، بخشو کا کوئی نہیں

اس سے قبل جمعے کی صبح پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا ہے۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی فوجی اقدام سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی طرف سے نکتۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا وعدہ اور عزم صرف سعودی عرب کی حفاظت کے لیے ہے اور اس معاملے میں قائدِ حزبِ اختلاف کے خدشات بجا لیکن بےبنیاد ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا تھا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ہی یمن میں باغیوں کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے ارکان پارلیمنٹ اور لوگوں میں اس بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ مشترق وسطی کی صورت حال کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا جائے۔

اپنے خطاب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس جنگ میں حصہ لینے کا کوئی فیصلہ یا وعدہ نہیں کیا ہے۔ صرف سعودی عرب کے دفاع کا وعدہ کیا ہے۔ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب کا ضرور دفاع کریں گے اور یہ ہم نے انھیں بتا دیا ہے۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا کے متعدد ممالک میں جنگ کا ماحول ہے اور پاکستان کسی ایسے تنازعے کو ہوا نہیں دینے چاہتا جس کے اثرات مسلم دنیا پر تفرقے کی صورت میں پڑیں۔

انھوں نے کہا کہ اس (تفرقہ بازی) کی فالٹ لائنز پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ان میں ہلچل مچانا اور پھر اس کے نتائج بھگتنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب اس معاملے پر عرب لیگ کے متوقع اجلاس کے بعد صورت حال دیکھ کر ہی وفد کی روانگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے بھی یمن میں جاری سعودی کارروائی میں پاکستانی شمولیت کی مخالفت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا پاکستان دوسروں کی جنگوں میں حصہ لے کر پہلے ہی کافی نقصان نہیں اٹھا چکا: عمران خان

ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو جنگ کا حصہ بننے کی بجائے امن مذاکرات کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیا پاکستان دوسروں کی جنگوں میں حصہ لے کر پہلے ہی کافی نقصان نہیں اٹھا چکا؟

عمران خان نے یہ بھی کہا پاکستان کو اس وقت بھی فرقہ واریت کے بڑے مسئلے کا سامنا ہے اور پاکستان گذشتہ دس برس میں بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو سعودی فوج نے یمن میں صدرعبد الربہ منصور ہادی کی درخواست پر شیعہ حوثی قبائل کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا ہے اور سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس آپریشن کے لیے نہ صرف سعودی عرب کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس جنگ میں حصہ لینے کو بھی تیار ہے۔

اسی سلسلے میں جمعرات کی شب وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے لاحق ہونے کی صورت میں اس کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔

اسی بارے میں