کراچی آپریشن کسی ایک پارٹی کے خلاف نہیں: وزیر اعظم

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں حالیہ برسوں میں ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کراچی آپریشن سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ کراچی آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے اور اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ کے تین رکنی وفد نے وزیر اعظم سے جمعے کے روز ملاقات کی اور اُنھیں چند روز قبل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز اور قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے کیے گئے ریڈ کے بارے میں آگاہ کیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کسی طور پر بھی جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی نہیں کرتی اور نہ ہی ایسے افراد کے لیے اُن کی جماعت کے لیے کوئی جگہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ رینجرز کی طرف سے اس علاقے میں چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں یہ تاثر دیا جار ہا ہے کہ اُنھیں نائن زیرو سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ نائن زیرو کے اردگرد ہزاروں گھر موجود ہیں جہاں سے ان افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نے وہاں پر رینجرز کی کارروائی کے بارے میں کوئی اعتراض نہیں کیا تاہم جس طرح گرفتار ہونے والے افراد کو مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اس پر ایم کیو ایم کو تحفظات ہیں جن کا اظہار اُنھوں نے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہزاروں لوگ روزانہ نائن زیرو کا دورہ کرتے ہیں اور اُن کی جماعت کو تو یہ معلوم نہیں ہے اُن میں سے کون قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا ان کے وفد نے وزیر اعظم سے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم صولت مرزا کے ویڈیو بیان کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق جو اس ملاقات میں موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے وفد کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ کراچی میں اس وقت تک آپریشن جاری رہے گا جب تک وہاں سے جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔

اُنھوں نے کہا کہ کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں میں مسلح گروپ موجود ہیں اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خود ہی ایسے گروپوں کو ختم کردینا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ڈیتھ سیل میں موجود صولت مرزا کے ویڈیو بیان دینے کی اجازت کس نے دی، اس کی تحقیقات کرنے کا اختیار بلوچستان کی حکومت کے پاس ہے۔

اسی بارے میں