پاکستان میں السعود اور حوثی قبیلے کے حمایتی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حافظ سعید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں

پاکستان میں مذہبی جماعتیں یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بعد السعود اور حوثی قبیلے کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئی ہیں، اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات نے جنم لیا ہے۔

جماعت الدعوۃ نے سعودی عرب کی حمایت میں متفقہ لائہ عمل بنانے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے، اسلام آباد اور لاہور میں جمعہ کو تنظیم کی جانب سے السعود خاندان کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں۔

لاہور میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یمن میں باغیوں کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے اور وہاں بغاوت کھڑی کرنا سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مترادف ہے، اگر اس خطرے کو بھانپ کر سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے باغیوں پر حملے شروع کیے ہیں تو مسلم امہ کو ان سازشوں کے خاتمے کے لیے ایک ہوجانا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت پوری مسلم امہ کو اپنے ملکوں سے زیادہ حرمین الشریفین کی فکر کرنی چاہیے اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے وہ سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کراچی میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے خوجہ مسجد کھاردار میں یمن کے حوثی قبیلے کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا، جس میں سعودی حکومت کی یمن پر بمباری کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا علی انور اور مولانا احسان دانش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اپنی لگائی گئی آگ میں خود جل رہا ہے، جہاں عوامی انقلابات نے آل سعود کی صدیوں سے جاری بادشاہت کا تخٹہ الٹ دیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت بیرونی امداد کے نام پر ملکی سالمیت کو داؤ پر مت لگائے کیونکہ اس سے پہلے بھی نوازشریف حکومت نے سعودی مراعات خود لیں جبکہ عوام اور افواج پاکستان القاعدہ، طالبان اور داعش کی صورت میں آج بھی دہشت گردی کی قیمت چکا رہی ہے‘۔

سنی تحریک نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے فوج کو یمنی عوام کے خلاف جنگ میں نہ دھکیلا جائے، کیونکہ مسلم ملک کے خلاف فرقہ وارانہ مہمم جوئی کا حصہ بننا کسی صورت میں دانشمندی نہیں ہوگی۔

سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کا کہنا ہے کہ سعودیہ سے وصول کیے گئے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بدلے حکومت قومی جذبات سے نہ کھیلے یمن، سعودی عرب اور ایران سمیت تمام مسلم ممالک سے پاکستان کو بلاتفریق دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم پہلے ہی پرائی لڑایوں میں ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی ہے اور اب سعودی جنگ میں شمولیت سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادت بھی چھڑ جانے کا اندیشہ ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی بھی سعودی عرب میں پاکستان فوج کو بہیجنے کی مخالفت کرچکی ہیں۔

اسی بارے میں