پاکستان میں اغوا ہونے والی چیک خواتین سیاح رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہمپالووا اور انتونی چراستیکا کو مارچ 2013 میں پاکستان سے بھارت کے سفر کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا

جمہوریہ چیک کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ دو سال قبل پاکستان میں اغوا ہونے والی دو سیاح خواتین رہائی کے بعد اپنے وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔

سنیچر کو ای میل میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں انھوں نے کہا ’مجھے یہ تصدیق کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہانا ہمپالووا اور انتونی چراستیکا آج (سنیچر) کی صبح جمہوریہ چیک واپس پہنچ گئی ہیں۔‘

وزیر ِاعظم سبوٹکا کا مزید کہنا تھا کہ ان خواتین کی رہائی ان مذاکرات کی بدولت ہوئی ہے جو ترکی کی تنظیم ’ہیومینٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن‘ کر رہی تھی۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آنادولو کا کہنا ہے کہ پاکستان سے رہائی کے بعد دونوں خواتین کو مشرقی ترکی میں کچھ وقت کے لیے مہمان رکھا گیا جس کے بعد انھیں چیک حکام کے سپرد کر دیا اور وہ واپس اپنے وطن لوٹ گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY

ان سیاحوں کو مارچ سنہ 2013 میں صوبہ بلوچستان میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ پاکستان کے راستے بھارت جا رہی تھیں۔

ہمپالووا اور انتونی چراستیکا کے اغوا کی خبر ملتے ہی 19 مارچ سنہ 2013 کو وسطی یورپ کے ملک جمہوریہ چیک کے صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے اپیل کی تھی کہ وہ بلوچستان سے اغوا ہونے والی دو چیک خواتین کو بازیاب کرانے میں مدد کریں۔

مغوی خواتین چھٹیاں گزارنے ایران، پاکستان اور بھارت کی سیر کو نکلی ہوئی تھیں اور ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد چاغی کے علاقے سے انھیں پندرہ کے قریب مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے دو لیویز اہلکار بھی فراہم کیے گئے تھے جنھیں اغوا کار اپنے ساتھ لے گئے تھے تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

چیک خواتین کے اغوا سے پہلے سنہ 2011 میں سوئٹزرلینڈ کے ایک جوڑے کو بلوچستان کے شمالی علاقے لورالائی سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں یہ جوڑا قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بازیاب ہوا تھا۔

اسی بارے میں