خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کا اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میاں افتخار کے مطابق تینوں جماعتوں کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ ایک ہی انتخابی نشان کے تحت انتخابات میں حصہ لیا جائے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حزب اختلاف میں شامل تین جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ مشترکہ امیدوار سامنے لائیں گی اور اسی طرح حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں بھی متحد نظر آتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جا سکتا ہے۔

بدھ کو پشاور کے باچا خان مرکز میں حزب اختلاف کی ان تینوں جماعتوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ ان کا اتحاد ہر ضلعے کی سطح پر رہے گا۔

یہ اجلاس صوبے کے وسطی اضلاع پشاور، نوشہرہ، صوابی، چارسدہ اور مردان کے بارے میں تھا جبکہ دیگر اضلاع کے بارے میں اس سہہ فریقی اتحاد کے اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ میاں افتخار نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں جماعتوں کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ ایک ہی انتخابی نشان کے تحت انتخابات میں حصہ لیا جائے اور اس کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔

بظاہر یہ اتحاد پاکستان تحریک انصاف کے خلاف قائم کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام ف ایک دوسرے کی مخالف جماعتیں رہی ہیں۔

اس اتحاد میں دو جماعتوں کا تعلق بائیں بازو اور ایک جماعت دائیں بازو کی ہے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں نہ صرف ان تین جماعتوں بلکہ مسلم لیگ نواز کا بگ ووٹ اپنے نام کر لیا ہے۔

میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ سہہ فریقی اتحاد کے اجلاس میں حلقہ بندیوں اور انتخابات انتظامیہ کے تحت کرنے پر حکومتی پالسیوں پر سخت تنقید کی گئی۔ ان سے جب کہا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی پانچ سالہ دور اقتدار میں یہ انتخابات منعقد کرانے میں ناکام رہی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد انہیں کم وقت ملا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک حقیقیت ہے کہ ماضی میں منتخب حکومتیں اور سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کرانے سے کتراتی رہی ہیں کیونکہ ضیا الحق کے دور سے اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کا جو سلسلہ شروع ہو تھا اس سے سارا نظام خراب ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا میں اب تک بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفصیلات آئندہ چند روز میں جاری کر دی جاییں گی۔ یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ انتخابات مئی کے مہینے میں منعقد ہوں گے۔

ادھر دیگر سیاسی جماعتیں بھی ان انتخابات کے حوالے سے متحرک ہیں۔ جماعت اسلامی کے صوبائی ترجمان اسرار اللہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ہر ضلعے کی سطح پر مشترکہ امیدوار سامنے لانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تاہم وزیر اعظم نواز شریف کے پشاور کے حالیہ دورے کے دوران بڑے بڑے وعدے کیے تھے اور کہا تھا کہ وہ نیا خیبر پختونخوا بنائیں گے۔

نواز شریف نے اس دورے میں کارکنوں سے بھی خطاب کیا تھا جہاں کارکنوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں میں خیبر پختونخوا کو نظرانداز کرنے کی شکایتیں ضرور کی تھیں۔

اسی بارے میں