’یمن پر فردِ واحد کو فیصلے کا اختیار نہیں، اے پی سی بلائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ تحریک انصاف سے وہ ضرور مذاکرات کرنا چاہیں گے اور انہیں ہر فیصلے میں اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں پانچ سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے مسئلے پر کسی فردِ واحد کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور حکومت کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔

کراچی میں بدھ کو بلاول ہاؤس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، جمعیت علما فضل الرحمان کے قاری عثمان، راشد محمود سومرو اور بی این پی عوامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ تمام جماعتیں سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں اتحادی رہی ہیں۔

یمن کی جنگ پر بات چیت، پاکستانی وفد سعودی عرب میں

’لڑائی میں شمولیت پاکستان کے لیے تباہ کن‘

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

اعلامیے کے مطابق شرکا نے یمن کی صورتحال، اس کے خطے اور پاکستان پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

اجلاس میں پانچ جماعتوں جس میں چار اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے قوم کو اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ مسئلے کی شدت کا یہ تقاضا ہے کہ کوئی بھی فرد واحد سیاسی جماعتوں اور شراکت داروں سے بات چیت کے بغیر اپنے طور پر فیصلہ نہ لے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تحریک انصاف سے وہ ضرور مذاکرات کرنا چاہیں گے اور انھیں ہر فیصلے میں اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے اور باقی یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔

Image caption ’قومی پالیسی واضح کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کوئی جماعت یا شخص سولو فلائٹ پر چلا جائے ‘

انھوں نے بتایا کہ انھیں اندازہ تھا کہ خطے میں یہ صورتحال جنم لے سکتی ہے اس لیے جب وہ ایوان صدر میں تھے تو ان کی ایران اور سعودی عرب سے بات چیت ہوئی تھی لیکن موجودہ وقت دونوں ممالک سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

آصف علی زرداری کے مطابق آج حالت یہ ہے کہ ہمارے 15لاکھ لوگ سعودی عرب میں ہیں، تین لاکھ خلیجی ریاستوں میں ہیں جبکہ پورے خطے کا استحکام خطرے میں ہے اس صورتحال میں پاکستان کا کردار اہم بنتا ہے، اس کو صرف تکرار میں حصہ لینا نہیں چاہیے بلکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر بات بھی کرنی چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی گیم سے پہلے اپنے پتے ظاہر نہیں کرتا جب نواز شریف حکومت کہے گی کہ وہ ان کی تجاویز کو نہیں مانتی تو اس کے بعد ہی وہ اپنی حکمت عملی ظاہر کریں گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا موقف تھا کہ عالمی امن کے لیے ایک قومی پالیسی واضح کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کوئی جماعت یا شخص سولو فلائٹ پر چلا جائے کیونکہ موجودہ صورتحال کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ذمے داری پوری کی ہے اور اب مسلم لیگ نون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

اسی بارے میں