تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں مذاکرات کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کی سربراہ الطاف حسین نے بدھ کی صبح تحریک انصاف کی قیادت کو پیشکش کی تھی کہ وہ جہاں چاہیں جلسہ منعقد کرسکتے ہیں

سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی ثالثی میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، جس میں ضابطۂ اخلاق پر عمل کرنے اور قائدین پر تنقید نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم فریقین میں ایف آئی آر واپس لینے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے عقبی نشست پر موجود گورنر سندھ نے ایک بار پھر اگلی نشست سنبھالی اور اپنا سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ صولت مرزا کے بیان کے بعد یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ وہ مستعفیٰ ہو جائیں گے۔

بدھ کی صبح گورنر ہاؤس میں ڈاکٹر عشرت العباد کی زیر صدرات اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عارف علوی، حلقہ این اے 246 سے امیدوار عمران اسماعیل اور خرم شیر زمان جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے خالد مقبول صدیقی، ضمنی الیکشن میں امیدوار کنور نوید جمیل نے شرکت کی۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے بتایا کہ جناح گراؤنڈ میں گذشتہ روز جو واقعہ پیش اور کشیدگی پیدا ہوئی وہ مناسب نہیں تھی جب الطاف حسین کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے قطع نظر اس کے کہ کیا مسئلہ تھا افسوس کا اظہار کیا اور ان سے رابطہ کرکے صورتحال کو معمول پر لانے کی ہدایت کی۔

ایم کیو ایم کی سربراہ الطاف حسین نے بدھ کی صبح تحریک انصاف کی قیادت کو پیشکش کی تھی کہ وہ جہاں چاہیں جلسہ منعقد کرسکتے ہیں۔ گورنر عشرت العباد نے ان کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہے کہ عوام کسی بھی اشتعال اور شر انگیزی سے اجتناب برتیں اور اس میں شامل نہ ہوں۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے بتایا کہ دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے ضمنی انتخابات کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے جس پر ہر جماعت عملدرآمد کرے تاکہ انتخابات جمہوری انداز میں پرامن اور عوام کی مرضی و منشا کے مطابق ہوں۔

انھوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہوا کہ قائدین کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے جائیں کیونکہ اس سے کارکنوں کو تکلیف پہنچتی ہیں، تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عارف علوی کا کہنا تھا کہ تنقید سیاست کا حصہ ہے لیکن الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتی جائے گی۔

تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے لیے الطاف حسین کے بیان کو خوش آمدید کرنا چاہتے ہیں وہ امن پسند لوگ ہیں پیار سے انتخابات لڑنا چاہتے، بقول ان کے اس نشست سے دونوں جماعتوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن شہر میں جو خوف کی فضا ہے وہ اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کنور نوید نے جناح گراونڈ پر جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفتر کی حساسیت کو دیکھ ایسے فیصلے لینے چاہیں ورنہ غلط روایت میں ایک اور اضافہ ہوجائے گا، جس سے سیاسی کشیدگی جنم لے گی۔ اس کے جواب میں تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا تھا کہ حلقے میں جلسے ضرور ہوں گے تاہم انہوں نے جناح گراونڈ کا ذکر نہیں کیا۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی ایف آئی آرز کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ قانونی طریقے سے نمٹائی جائیں گی۔

یاد رہے کہ جناح گراونڈ میں تحریک انصاف کی ریلی پر حملے کے خلاف عزیز آباد تھانے پر متحدہ قومی موومنٹ کے 40 کے قریب نامعلوم کارکنوں پر ہنگامہ آرائی اور حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، تحریک انصاف کے رہنما عزیز اللہ خان آفریدی کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے اکسانے پر ان کی ریلی پر حملہ کیا گیا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف ان ہی الزامات کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا ہے، رکن قومی اسمبلی سفیان یوسف کی درخواست پر عمران اسماعیل، عزیز اللہ خان آفریدی او دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے الطاف حسین کی تصاویر پھاڑیں اور یاددگار شہدا کی بے حرمتی کی اور یہ اقدام تنظیم کے سربراہ عمران خان اور رکن قومی اسمبلی عارف علوی کی ایما پر کیا گیا۔

اسی بارے میں