بلوچستان میں طالبان کی بڑھتی موجودگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کے بعد شمالی بلوچستان سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندی کے خلاف گذشتہ برس فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ شدت پسند کہاں چلے گئے؟ خود فوجی حکام اس بات کو رد نہیں کرتے کہ عسکریت پسند ضرب عضب کے آغاز سے قبل ہی وہاں سے چلے گئے۔

بعض لوگوں کے خیال میں وہ افغانستان منتقل ہوگئے ہوں گے تو کچھ کے خیال میں انھوں نے دیگر قبائلی علاقوں کا رخ کیا ہوگا لیکن اس کارروائی کے آغاز کے بعد سے شمالی بلوچستان سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ضربِ عضب کے بعد شدت پسند گئے کہاں؟

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے گذشتہ دنوں بلوچستان میں لورالائی کےعلاقے چیچلو میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں ان کے بقول گاڑی میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہوئے۔

بی بی سی نے کاکڑ قبائل کے اس خطے کے ایک گاؤں اغبرگ کے ایک رہائشی سے وہاں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کچھ یوں کہانی بیان کی۔

’اونچے پہاڑوں کے درمیان ہلال کی صورت اغبرگ گاؤں تقریباً ایک ہزار گھرانوں پر مشتمل ہے۔ اسے اگر اس علاقے کے دلکش ترین دیہات میں سے ایک کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ تاریخی اعتبار سے یہ گاؤں پرامن رہا ہے لیکن کچھ عرصے سے یہاں بھی شدی پسندوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

’اس گاؤں میں کاکڑ قبیلے کی ذیلی شاخوں دومڑ اور زکپیل آباد ہیں۔ اطراف میں چند افغان قبائل بھی رہتے ہیں۔ انتظامی طور پر یہ ضلع زیارت کی سنجاوئی تحصیل کے اندر واقع ہے۔

’اس گاؤں کی مشکلات کا آغاز یہاں مولوی اسلم (دومڑ) نامی ایک مقامی مذہبی رہنما کو فرنٹیئر کور کی جانب سے سال 2012 میں مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتاری اور چند ماہ تک حراست میں رکھنے سے ہوا۔ رہائی کے بعد سے مقامی لوگوں کے مطابق مولوی اسلم سے اکثر رات گئے غیرمقامی افراد کا آنا جانا بڑھ گیا۔ شک تھا کہ یہ مہمان شمالی وزیرستان سے آتے تھے۔ لیکن لوگوں نے اس پر اس وقت زیادہ توجہ نہ دی۔

’خیال ہے کہ مولوی اسلم افغان جہاد میں حصہ لے چکا ہے۔ 90 کی دہائی میں جب وہ کم عمر تھا اس نے طالبان تحریک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ لیکن اس علاقے کے کئی نوجوانوں کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد یہ واپس لوٹ آیا۔ اس نے مختلف دیہات کا رخ کیا اور نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا عمل شروع کیا۔ لیکن مولوی اسلم جیسے چھوٹے کمانڈروں کا اصل رہنما ملا زمان بتائے جاتے ہیں۔

’ان کی غالباً پہلی اور کارروائی افغان پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ کرنے والی سیو دی چلڈرن کی ایک ٹیم سے ان کے موبائل اور دیگر قیمتی سامان چھیننا تھی۔ اس واقعے کی اطلاع لورالائی تحصیل کی مقامی پولیس اور لیوی فورس کو دی گی۔ جس کے بعد اگلے دن ہی لیوی فورس کے رسالدار میجر اور دیگر اہکاروں نے جائے واردات کا معائنہ کیا۔ لگ بھگ دوپہر دو بجے کے قریب یہ لوگ علاقے کے ایک سردار ملک کے مکان پر پہنچے جہاں رسالدار کو گیسٹ ہاوس میں ٹھہرایا گیا جبکہ باقی عملہ دوپہر کی نماز پڑھنے کے لیے باہر نکلا ہی تھا کہ اچانک موٹر سائیکلوں پر مسلح چھ طالبان نے انہیں گھیر لیا اور ہتھیار ڈالنے کو کہا۔

’میزبان نے مداخلت کرتے ہوئے، انہیں مقامی مہمان نوازی کی رسم و رواج کو نہ توڑنے کی درخواست کی اور طویل بحث کے بعد، بالآخر وہ معاملہ حل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد لیویز فورس وہاں سے چلی تو گئی لیکن مقامی گاؤں والے لورالائی شہر کے آدھے راستے تک ان کے ساتھ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption راتوں کو گاؤں میں موٹر سائیکلوں کا شور اور طالبان کا بےدھڑک گھومنا معمول بن گیا

’نام نہاد طالبان کی اس کارروائی کے ردعمل میں لورالائی پولیس کی نا اہلی نے ان کے عزائم کو مزید پختہ کیا۔ اس واقعے کے بعد اگلی ہی شام شدت پسند نے دوبارہ اس گلزار کے پاس گئے اور انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی مدد کریں گے تو ان کے جسم کے ٹکرے ٹکڑے کر دے جائیں گے۔

’کھلے عام اس طرح کی دھمکی اور لیوی فورسز کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بعد گاؤں والوں کے ذہن پر کافی گہرا اثر چھوڑا۔ گاؤں میں زیادہ تر لوگ محنت مشقت کرتے ہیں اور کاشت کاری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہیں اس طرح کے جھگڑوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

’اس واقعے کے بعد لوگوں نے اپنے چھوٹے اور معمولی تنازعات کے حل کے لیے بھی اس گروپ کی مدد حاصل کرنا شروع کردی۔ مقامی حکام ان تمام واقعات سے بےخبر رہے اور آخر کار ان لوگوں نے تمام گاؤں کا محاصرہ کرلیا۔ راتوں کو گاؤں میں موٹر سائیکلوں کا شور اور طالبان کا بےدھڑک گھومنا معمول بن گیا۔ وہ کسی بھی دروازے پر رات گئے دستک دیتے اور بےخوفی سے کھانا مانگتے۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔

’ملک کو دھمکی دینے سے ایک دن پہلے لورالائی کے ایک انجینیئر کا بھائی جو دو دن سے لاپتہ تھا، اس کی سر کٹی لاش ژوب سے ملی۔ گمان کیا جاتا ہے کہ اُس کو مارنے میں بھی مبینہ طور پر مُلا اسلم کا ہاتھ ہے۔ طالبان نے اس کی خوفناک ویڈیو بھی جاری کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فوج کی جانب سے مرغا کیبزائی کے علاقے میں کارروائی میں اس قتل میں ملوث کئی ملزم مارے گئے ہیں۔

’جب ژوب کے علاقے میں ہونے والے آپریشنز میں تیزی آئی تو دہشت گردوں نے اغبرگ گاؤں کا رخ کیا۔ فوج نیم دلی کے ساتھ گاؤں کا چکر لگاتی جو گاؤں والوں کے لیے محض مذاق بن گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان یہاں فوج کا انتظار بھی کر رہے ہوتے تو بھی فوج کا یہ غیر سنجیدہ رویہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ مقامی افراد کو بدسلوکی کی شکایات بھی پیدا ہوئیں۔ ان کارروائیوں میں لوگوں سے زبردستی قانونی اور غیرقانونی اسلحہ بھی ضبط کر لیا گیا۔ شدت پسند آزادی سے گھومتے پھرتے رہے، ْبعض پکڑے بھی گئے لیکن بعد میں رہا کر دیے جاتے۔ بلی اور چوہے کا یہ کھیل چند ماہ تک چلا۔

’اس سال تین مارچ کو شیرانی ضلع کے پولیس سربراہ پر اغبرگ گاؤں کے قریب حملہ ہوا جس میں وہ تو بچ گئے لیکن ان کے تین ساتھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی گوال حیدرزئی سے چرائی گئی تھی۔ گیارہ مارچ کو شدت پسندوں نے پوئی گاؤں میں لیوی اہلکار کو ہلاک کر کے اس کے ساتھ ایک پیغام بھی چھوڑا کہ اسے اس شک میں مارا گیا ہے کہ اس نے فوج کو مخبری کی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔ ان پرتشدد کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

’اغبرگ سے لورالائی کا فاصلہ پندرہ کلومیٹر ہے۔ اس علاقے کے لوگ مشکل میں ہیں۔ وہ خوف میں مبتلا ہیں کہ کیا یہ شدت پسند اب یہاں کوئی دائرہ اختیار قائم کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوج نیم دلی کے ساتھ گاؤں کا چکر لگاتی جو گاؤں والوں کے لیے محض مذاق بن گیا تھا

اسی بارے میں