یمن سے جبوتی پہنچنے والے 176 پاکستانیوں کی وطن واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس پرواز سے قبل پی آئی اے کی ایک اور پرواز 503 پاکستانیوں کو حدیدہ سے واپس لا چکی ہے

یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کا آپریشن جاری ہے اور اس سلسلے میں مزید 176 پاکستانی جبوتی سے واپس وطن پہنچے ہیں۔

ان 176 افراد کو ایک چینی بحری جہاز کی مدد سے عدن سے یمن کے قریبی ملک جبوتی منتقل کیا گیا تھا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کا ایک طیارہ انھیں لے کر جمعے کی دوپہر اسلام آباد پہنچا۔

اس سے قبل حدیدہ سے ایک پرواز کے ذریعے 503 پاکستانیوں کو پہلے ہی واپس لایا جا چکا ہے۔

جمعے کو ائیرپورٹ پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پی کے 7004 نامی پرواز سے واپس آنے والے افراد کا استقبال کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یمن سے زیادہ تر پاکستانیوں کو نکال لیا گیا ہے اور وہاں موجود باقی پاکستانی بھی آئندہ چند روز میں واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صنعا کا ہوائی اڈہ آپریشنل ہوا تو وہاں بھی پرواز بھیجی جائے گی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان افراد کے یمن سے انخلا کے بعد وہاں موجود پاکستانیوں کی تعداد دو ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔

تاہم ان میں سے بیشتر ایسے علاقوں میں نہیں جو جنگ سے متاثر ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں محصور پاکستانیوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان یمن کے مسئلے کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے: نواز شریف

دفترِ خارجہ کے مطابق ان میں سے 90 کے قریب پاکستانی دارالحکومت صنعا میں ہیں لیکن وہ وہاں سے کسی اور شہر جانے پر رضامند نہیں۔

اس کے علاوہ مکلا میں بھی پاکستانی شہری ہیں جنھیں نکالنے کے لیے پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز بھیجا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے یمن میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر گذشتہ جمعے کو وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کی فوری انخلا کی ہدایات دی تھیں اور اس کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے دو طیارے مخصوص کیے گئے تھے۔

ادھر یمن کی صورتحال پر ہی بات چیت کے لیے وزیراعظم نواز شریف جمعرات کو ایک روزہ سرکاری دورے پر ترکی روانہ ہوگئے ہیں۔

ان کا یہ دورہ یمن میں سعودی عرب کے عسکری آپریشن اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر دوست ممالک سے بات چیت کی مہم کا حصہ ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق ترکی روانگی سے قبل میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کے مسئلے کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکی ہے تاہم ابھی تک وہاں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج بھیجنے کے اہم سوال پر بحث کے لیے حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چھ اپریل کو طلب کیا ہے۔

یمن میں کارروائی کے لیے پاکستانی فوج بھیجنے کے معاملے پر پاکستان میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں