صولت مرزا کے الزامات کی تحقیقات کا نوٹیفکیشن

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے صولت مرزا کی پھانسی موخر کی گئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مچھ جیل کےحکام کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے منتظر قیدی صولت مرزا سے مزید تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن موصول ہو گیا ہے۔

مچھ جیل کےسپرنٹنڈنٹ اسحاق زہری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صولت مرزا کے الزامات کی مزید تحقیقات کے لیے جی آئی ٹی کا نوٹیفکیشن سنیچر کو موصول ہوا ہے۔

پھانسی سے قبل ویڈیوکا معمہ، تحقیقات کا حکم

انھوں نے بتایا کہ نوٹیفکیشن میں اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ جی آئی ٹی کے اراکین کب تفتیش کے لیے مچھ جیل آئیں گے۔

پھانسی سے قبل صولت مرزا کی ویڈیو میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں اُن کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے ڈی آئی جی امیر شیخ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس ٹیم میں خفیہ اداروں کے افراد بھی شامل ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کو کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے سابق ایم ڈی سمیت تین افراد کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں پھانسی کی سزا ہوئی تھی اور سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر صولت مرزا کو گذشتہ سال کر اچی سے مچھ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

صدر سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد صولت مرزا کو 19 مارچ کو مچھ جیل میں پھانسی دی جانی تھی لیکن پھانسی کی سزا پر عملدرآمد سے ساڑھے پانچ گھنٹے قبل ان کا ایک اعترافی بیان پاکستان کے ٹی وی چینلز پر نشر ہوا تھا۔ جس کے بعد وزارت داخلہ نے صولت مرزا کی پھانسی 72 گھنٹوں کے لیے موخر کر دی تھی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے صولت مرزا کی پھانسی موخر کی گئی ہے۔

پھانسی سے چند گھنٹے قبل صولت مرزا نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ سمیت دیگر رہنماؤں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور تنظیم کے رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ الطاف حسین نے اس ویڈیو کے اجرا کے لیے پاکستانی ایجنسیوں کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

اسی بارے میں