اورکزئی میں’دولتِ اسلامیہ‘ کے حملے میں تین اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلی مرتبہ دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات وسطی اورکزئی ایجنسی کے علاقے کاشہ میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوہاٹ سے اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے غلجو جا رہا تھا کہ اوٹھ میلہ کے مقام پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

مقامی اہلکاروں کے مطابق حملے میں ابتدائی طور پر فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے تاہم دو اہلکاروں نے بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ حملے میں تین اہلکار ہوئے جنھیں سی ایم ایچ کوہاٹ منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے قافلے پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق آزاد کشمیر ریجمنٹ سے بتایا جاتا ہے۔

تاہم ابھی تک فوج کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ُادھر پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کر لی ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

رواں سال جنوری میں عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے طالبان کے ایک مُنحرِف ترجمان حافظ سعید خان کو پاکستان اور افغانستان کے خطے میں اپنا کمانڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اُن کی تقرری کا اعلان دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے نشر کیے جانے والے ایک آڈیو بیان میں سامنے آیا تھا۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں چند سال پہلے سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں بیشتر مقامات کلیئر قرار دیے گئے تھے۔ تاہم حالیہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا ہے جہاں اس سے پہلے سکیورٹی فورسز پر کم ہی حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔

اسی بارے میں