’یمن کی صورتِ حال پر پارلیمان رہنمائی کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن کی صورتِ حال پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں منگل کو دوسری دن جاری ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے مسئلے پر ایوان حکومت کی رہنمائی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یمن کی صورتِ حال کے بارے میں کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی ہے اور اسی لیے ہم پارلیمان سے رہنمائی چاہتے ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں جاری عسکری آپریشن میں پاکستان کے کردار پر بحث کی جا رہی ہے۔

اجلاس کے دوسرے دن وزیرِاعظم نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ اُن کی حکومت اراکین ِ پارلیمان کے مشوروں کو نیک نیتی کے ساتھ پالیسی کا حصہ بنائے گی، کیونکہ یمن کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ ہے۔

نواز شریف کے مطابق ’حکومت نے کوئی فیصلہ خفیہ طور پر نہیں کرنا بلکہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تجاویز کے لیے طلب کیا ہے اور ان تجاویز سے ہی پالیسی ترتیب دی جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کے صدر کی سعودی وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی ہے، ترک صدر سے مزید مشاورت کے بعد مشترکہ پالیسی بنائیں گے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ بھی پاکستان آ رہے ہیں۔

یمن کی صورتِ حال پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں منگل کو شروع ہوا تو حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یمن میں ہونے والی جنگ سے سعودی زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو یمن میں جنگ بندی اور قیامِ امن کی کوشش کرنی چاہیے۔

انھوں نے تجویز دی کہ پاکستان یا ترکی کو سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کروا کر، ان کے تنازعات ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے کہا عرب سپرنگ کے بعد خطے کی سیاست بدل رہی ہے اور بدقسمتی سے عرب ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

میر حاصل بزنجو نے کہا کہ مشرق وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا تعلق نہیں ہے بلکہ اس صورت حال کو مشرق وسطیٰ کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

انھوں نے تجویز دی کہ مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یکم اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں پانچ سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیاتھا کہ یمن کے مسئلے پر کسی فردِ واحد کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور حکومت کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کرے

جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ تنازعات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ثالثی ہے اس لیے پاکستان کو اس مسئلےکے لیے ثالثی کا کردار کرنا چاہیے۔

سراج الحق کے مطابق یمن کا مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ایک عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی نبھانے کے لیے اسے جنگ سے بچانا ہو گا۔

جماعتِ اسلامی کےسربراہ کا کہنا تھا کہ یمن کی صورتِ حال پر پارلیمان سے رائے لینا حکومت کا احسن اقدام ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے مصالحت کی راہ اپنانی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یمن کی جنگ میں حصہ بننے سے فرقہ واریت کو ہوا ملے گی۔

اس سے پہلے پیر کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے بری بحری اور فضائی تعاون کی درخواست کی ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی بدھ صبح ساڑھے دس بجے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں