خیبر پختونخوا: چار اغوا ایف سی اہلکاروں میں سے دو فرار

Image caption ایسی اطلاعات ہیں کہ صوبیدار میجر اور ایک حوالدار اب تک اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب نیم قبائلی علاقےدرازندہ اور شہری علاقے درابن کی سرحد کے قریب سے اغوا ہونے والے چارفرنٹیئر کور کے اہلکاروں میں سے دو اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ گذشتہ رات ایف سی کے صوبیدار میجر ، صوبیدار اور دو حوالدار ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن سے واپس درازندہ جا رہے تھے جب انھیں اغوا کیا گیا۔

اہلکاروں نے بتایا کہ جیسے ہی یہ اہلکار درازندہ کی حدود میں داخل ہوئے تو سامنے فوجی وردی میں ملبوس چھ افراد نے انھیں روکا اور پوچھا کہ وہ ایف سی کے اہلکار ہیں؟ جس کے بعد انھیں گاڑی سے نیچے اتار کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے ۔

پولیس کے مطابق ایک اہلکار اسی وقت اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہو گئے جبکہ دوسرے حوالدار بعد میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ صوبیدار میجر اور ایک حوالدار اب تک اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں۔

درابن اور درازندہ کے یہ علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کے مغرب میں کوئی 60 سے 70 کلومیٹر دور واقع ہیں۔

یہ شاہراہ آگے بلوچستان کے علاقے ژوب اور کوئٹہ کی جانب جاتی ہے۔

یاد رہے گذشتہ سال مئی میں درابن کے علاقے سے نا معلوم افراد چین کے ایک سیاح کو اغوا کرکے ساتھ لےگئے تھے۔

چینی سیاح اس علاقے میں سائیکل پر جارہے تھے۔ ان کے اغوا کی زمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

اس کے علاوہ اسی علاقے سے ہی نا معلوم افراد نے گذشتہ سال فروری میں دوسکھوں کو اغوا کیا تھا لیکن تقریباً ایک ماہ بعد انھیں رہا کر دیاگیا تھا۔

یہ سکھ پشاور کے رہائشی تھے اور اس علاقے میں حکمت کے حوالے سے ادویات کی ترسیل کے لیے گئے تھے۔

اس علاقے میں پولیس پر بھی متعدد حملے ہو چکے ہیں اور گذشتہ ماہ یہاں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے انٹیلیجنس کی اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی کیں تھیں۔

اسی بارے میں