’ 2015 نئے پاکستان کے لیے انتخابات کا سال ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر امن کی فضا برقرار رہے گی تو کراچی کے لوگوں کی اس میں بہتری ہے: عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ 2015 انتخابات کا سال ہے جس کے بعد نیا پاکستان اور نیا کراچی بنے گا۔

انھوں نے اپنی جماعت کو 19 اپریل کو جناح گراؤنڈ کی بجائے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں جلسہ کرنے کے لیے بڑی جگہ تلاش کرنے کو بھی کہا ہے۔

جمعرات کو عمران خان اپنی اہلیہ ریحام خان کے ہمراہ جناح گراؤنڈ پہنچے جہاں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے ان کا استقبال کیا لیکن اس دوران دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں کشیدگی بھی نظر آئی۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ جیسے ہی جناح گراؤنڈ سے روانہ ہوئے تو کارکنوں میں تلخ کلامی کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو دور کرتی رہی۔

جناح گراؤنڈ کے دورے کے بعد کریم آباد میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’ایک طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور اچھی اچھی باتیں کہتے ہیں دوسری جانب لوگوں پر ڈنڈے برساتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چلیں میں مانتا ہوں کہ ہماری جماعت میں نظم و ضبط نہیں آپ کی جماعت تو منظم ہے، جب آپ نے اعلان کیا تھا ہمارا استقبال کریں گے تو پھر کیسے آپ کے لوگوں نے ہمارے کارکنوں کو ڈنڈے مارے لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں اور کراچی کے لوگوں نے بندوق کا مقابلہ بندوق سے نہیں کرنا۔‘

تحریک انصاف نے 19 اپریل کو جناح گراونڈ میں جلسہ نہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے کارکنوں سے خطاب میں اپنے امیدوار عمران اسماعیل کو کہا کہ جناح گراؤنڈ چھوٹی جگہ ہے وہاں جگہ کم پڑ جائے گی، کوئی ایسی جگہ تلاش کریں جہاں کراچی کے لوگوں سے بات کی جا سکے۔

عمران خان نے کارکنوں سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ 2015 انتخابات کا سال ہے جس کے بعد نیا پاکستان اور نیا کراچی بنے گا۔

اس سے پہلے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ برداشت اور تحمل سے جمہوریت کو پاکستان میں کامیاب کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ شروع میں یقیناً ایسی فضا قائم ہوئی تھی جس سے لوگوں کو پریشانی تھی لیکن جس طرح الطاف حسین نے عمران کا خیرمقدم کیا اس سے فضا بہتر ہوئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شرپسندوں کو موقع نہیں دینا کہ وہ فائدہ اٹھائیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کراچی کے انتخابی حلقے این اے 246 کے ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار کی انتخابی مہم میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے ہیں۔

یہ نشست ایم کیو ایم کے رکن نبیل گبول کے مستعفی ہونے پر خالی ہوئی تھی اور ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھے جانے والے اس حلقے میں انتخابات 23 اپریل کو ہو رہے ہیں۔

اس الیکشن میں پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل ایم کیو ایم کے کنور نوید کا سامنا کر رہے ہیں۔

عمران اسماعیل کی انتخابی مہم میں شرکت کے لیے عمران خان نے جلسے کی قیادت کی اور اس میں ان کا ساتھ دینے کے لیے ان کی اہلیہ ریحام خان بھی موجود تھیں۔

عمران خان نے ریلی کے آغاز پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا ایسا ماحول ہونا چاہیے کہ کوئی بھی انتخابی مہم چلا سکے اور عوام جسے چاہیں ووٹ دے سکیں۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے عمران خان کی جناح گراؤنڈ میں آمد کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے کارکنوں کی جانب سے کسی قسم کی نعرہ بازی، بدتمیزی یا بد تہذیبی نہیں ہو گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے اس بیان کے ذریعے امن کی فضا قائم کی ہے اب اس کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے کیمپوں پر دو بار حملہ کیا گیا اور پتھراؤ ہوا جو سراسر غلط ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح ہمیں خوف دلایا جائے گا اور ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے۔ اگر امن کی فضا برقرار رہے گی تو کراچی کے لوگوں کی اس میں بہتری ہے کیونکہ لوگ خوف کی فضا سے تنگ آچکے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption این اے 246 کی حدود میں ایم کیو ایم کا صدر دفتر بھی واقع ہے اور اسے جماعت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں اس حلقے میں اس وقت کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جب تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل کے جناح گراؤنڈ پہنچنے پر نہ صرف ان کے خلاف نعرے بازی ہوئی بلکہ ان کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیے گئے تھے۔

اس کشیدگی کے بعد سندھ کے گورنر ہاؤس میں دونوں جماعتوں میں مذاکرات میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر کے قریب جلسے نہ کرنے پر بات کی گئی تھی۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ جگہ دیکھ کر جناح گراؤنڈ میں جلسے کا فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب عمران خان کی اہلیہ اور سابق ٹی وی اینکر ریحام خان بھی پہلی بار سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اسلام آباد سے کراچی پہنچنے پر جمعرات کو انھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کی حمایت کرنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ ضمنی انتخابات نہیں ہو جاتے، وہ بار بار یہاں آئیں گے۔ اگر گھر گھر جا کر حمایت کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کریں گے۔ خان صاحب کے لیے کہیں بھی نو گو ایریا نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں