ذکی الرحمان لکھوی کو رہا کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی معطل کرنے کے احکامات پر بھارت میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے

لاہور ہائیکورٹ نے ممبی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے احکامات کو معطل کرتے ہوئے انھیں دس دس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے دو روز قبلذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران حکومت سے نظر بندی سے متعلق حساس معلومات اور تمام ریکارڈ طلب کیا تھا۔

عدالت کے روبرو پنجاب حکومت کی جانب سے سربمہر حساس معلومات اور ریکارڈ پیش کیا گیا۔

اس ریکارڈ کو عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ممبی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم کی رہائی کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل کا کہنا تھا ریویو بورڈ کے احکامات کے بغیر حکومت کسی شہری کی مسلسل چوتھی بار نظربندی کا حکم نہیں دے سکتی۔

اس لیے حکومت نے چوتھی بار ان کے موکل ذکی الرحمان لکھوی کو نظر بند کر کے نہ صرف عدالتی احکامات بلکہ قانون کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظر بندی کو غیرقانونی قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دے۔

پنجاب حکومت نے 14 مارچ کو ذکی الرحمان لکھوی کی چوتھی بار نظربندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس پیش رفت سے ایک دن پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے تو ذکی الرحمان کو رہا کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم پر بھارت میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو طلب کر کے باقاعدہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی ختم کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔

ذکی الرحمان لکھوی اڈیالہ جیل میں نظربند ہیں جبکہ ممبئی حملہ سازش کیس اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمے میں ان کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ انھیں امن وامان کے خدشے کے پیش نظر بند رکھا گیا ہے۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں ذکی الرحمان لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس ثبوت ہیں اور پاکستانی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں ہی رکھے۔

خیال رہے کہ ممبئی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ذکی الرحمان لکھوی کی نظربندی معطل کرنے کے احکامات پر بھی بھارت میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر بہت سے بھارتی شہریوں نے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں