انسداد بدعنوانی میں پاکستان ایشیا میں سب سے پیچھے

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کے مسائل ایک جیسے ہیں

انسداد بدعنوانی کے لیے موثر قوانین اور متعلقہ اداروں کی موجودگی کے باوجود بدعنوانی کے خاتمے کی کوششوں میں کامیابی کے لحاظ سے پاکستان ایشیائی ملکوں میں سب سے پیچھے ہے۔

اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی میں ناکامی کی ایک اہم وجہ عوام میں بد عنوانی کا قابل برداشت ہونا ہے۔

جاپان، ہانگ کانگ، بھارت اور پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے بارے میں ہونے والی کوششوں پر یہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر نے کی ہے جو لاہور کے ایک ادارے میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے استاد ہیں۔

پروفیسر منیر کی تحقیق کے مطابق انسداد بدعنوانی کے لیے ان ملکوں میں کم تر کارکردگی کی ایک وجہ پاکستانی عوام میں بدعنوانی کے لیے برداشت کے عنصر کا پایا جانا اور دوسری اہم وجہ حکمران طبقے میں اس بارے میں سیاسی عزم کا فقدان ہے۔

پروفیسر منیر کا کہنا ہے کہ یہ دونوں عناصر کسی بھی ملک میں انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کو ناکام کرنے کے لیے کافی ہیں۔

’پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے لیے بہت موثر قوانین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نیب کی شکل میں ایک موثر ادارے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ادارے بھی انسداد بدعنوانی کا کام کر رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود پاکستان کی کارکردگی باقی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت خراب ہے۔‘

انسداد بدعنوانی کے قومی ادارے یا نیب کے سربراہ قمر زمان نے اس رپورٹ کے اجرا کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں جو کمی رہ گئی ہے اس کی وجہ ماضی میں اس سمت میں درست اقدامات نہ ہونا ہے۔

’1999 کے بعد سے نیب پر امتیازی احتساب کا الزام لگا کیونکہ اس وقت کے حکمرانوں نے احتساب کو سیاسی مصلحتوں کے ماتحت کر دیا جس کی وجہ سے یہ ادارہ غیر موثر ہو کر رہ گیا۔‘

محمد منیر نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ ہانگ کانگ میں انسداد بدعنوانی کا ایک قانون اور ایک ہی ادارہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ ملک بدعنوانی پر قابو پانے میں بہت کامیاب رہا ہے۔

جاپان میں انسداد بدعنوانی کے ایک سے زیادہ قوانین ہیں لیکن مرکزی ادارہ موجود نہیں ہے اس کے باوجود وہاں پر نچلے درجے پر بدعنوانی پائی نہیں جاتی کیونکہ وہاں کے عوام سرکاری افسروں کے ہاتھوں کرپشن کے باعث تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

بدعنوانی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کے مسائل ایک جیسے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیئرمین نیب کے مطابق پاکستان میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں جو کمی رہ گئی ہے اس کی وجہ ماضی میں اس سمت میں درست اقدامات نہ ہونا ہے

بھارت میں بھی انسداد دہشت گردی کے قوانین کی بھرمار ہے اور کئی ادارے بھی کام کر رہے ہیں لیکن بدعنوانی پھر بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

محمد منیر کے مطابق: ’اس کی ایک وجہ بھارت میں کرپشن کی تحقیقات، کارروائی اور سزاؤں کے درمیان رابطہ نہ ہونا ہے۔ انسداد بدعنوانی کے ادارے کارروائی کی سفارش کر سکتے ہیں، سزا نہیں دے سکتے اور اکثر اوقات ان کی سفارشات پر عمل نہیں کیا جاتا اور بدعنوانی کے جرائم کی سزا کم ہی ملتی ہے۔‘

اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیب کو زیادہ اختیارات دیے جائیں اور نیب کے لیے بدعنوان بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے خلاف کارروائی سے قبل اجازت لینا لازمی نہیں ہونا چاہیے اور صرف اسی طریقے سے سیاسی مداخلت کے بغیر احتساب کا نظام وسیع اور موثر ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں