’بلاول کی جوانی اور سوچ میں بلوغت کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption بلاول کو آہستہ آہستہ متعارف کرایا جائے، تو بہتر ہے: آصف علی زرداری

پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جماعت کے چیئرمین اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کی جوانی اور سوچ میں بلوغت کی ضرورت ہے اور جب یہ دونوں چیزیں ہوجائیں تو پھر انہیں میدان میں اتارا جائے گا۔

کراچی میں جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی یہاں ( پاکستان میں) جو چیلنجز اور سیکیورٹی خطرات ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے بلاول کو آہستہ آہستہ متعارف کرایا جائے، تو بہتر ہے۔‘

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی گندے انڈے ہیں اور ان کی جماعت میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر اب تک گندے انڈے چلے آ رہے ہیں۔

’کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے یا جمہوریت کو ختم کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں سےگندے انڈے نکالے دیے جائیں۔‘

آصف علی زرداری نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے نوڈیرو میں کہا تھا کہ ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ مغرور نعرہ ہے اور ایسے نعرے نہیں لگنے چاہییں۔

انھوں نے کہا کہ ’جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے مجھ سے پوچھا تھا کہ یہ ایک زرداری، سب پہ بھاری کا نعرہ لگ رہا ہے تو میں نے کہا تھا کہ ایک زرداری سب سے یاری کا نعرہ لگے گا اور اسی یاری کی وجہ سے ہم نے سینیٹ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بنائے ۔‘

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام لیے بغیر جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سب سے یاری کی بات کرتے ہیں اور آپ نے اپنے یاروں کے بارے میں ایک شعر بھی پڑھا تھا کہ ’دیکھا جو کمیں گاہ کی طرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی ؟‘

اس کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ اپنے گندے انڈوں کی بات نہیں کر رہے۔

پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بڑھ جانے کے سوال پر سابق صدر نے میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ میڈیا والوں کو چٹ پٹی خبریں چاہییں کسی کی بے عزتی نہ ہو یا سیاست دانوں کو آپس میں لڑوایا نہ جائے تو خبر نہیں بنتی۔

’اگر میری گھی اور سیمنٹ کی فیکٹری ہے تو میں ٹی وی فیکٹری بھی لگا لیتا ہوں۔ ٹیکسٹائل ملز والے بھی ٹی وی چینلز چلا رہے ہیں تاکہ وہ ایک پاور بن جائیں۔ میڈیا ایک طاقت ہے ۔ کوئی اسے سنجیدگی سے استعمال کرتا ہے اور کوئی اسے غیر سنجیدگی سے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس دعوے کہ 2015 انتخابات کا سال ہے کے متعلق سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی تو یہ کوشش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے کیونکہ اس حکومت نے اپنی مدت پوری کی تو آئندہ جمہوریت کو طاقت ملے گی ۔

سابق صدر نے تجویز پیش کی کہ شفاف اور غیر جانبدرانہ انتخابات کے لیے آزادانہ اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے جو مالی معاملات میں بھی آزاد ہو۔

بقول ان کے پیپلز پارٹی حکومت نے ووٹ کے لیے انگوٹھا لگانے کے علاوہ دیگر اقدامات کیے لیکن ریٹرننگ افسروں کا فیکٹر آ گیا۔

’سیشن جج کے خلاف تو ہم کیس نہیں کر سکتے لیکن اگر آزاد الیکشن کمیشن ہوں اور دھاندلی کے ثبوت ہوں تو الیکشن کمیشن کے اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جاسکتی ہے۔‘

آصف علی زرداری سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی یاد داشتیں لکھیں گے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ شہید بھٹو کے زمانے سے میرے سینے میں راز موجود ہیں۔ اگر راز افشا کرنے سے عوام کی بہتری ہو تو سوچا جا سکتا ہے ۔ دنیا کے بڑے لیڈر اپنی یادداشتیں لکھتے ہیں لیکن وہ سارے راز بیان نہیں کر پاتے، وہ بھی صرف 70 فیصد ہی بیان کرسکیں گے۔

اسی بارے میں