مینگل خاندان کی سیاسی رسہ کشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چار دہائی کے سیاسی سفر میں وہ صوبائی وزیر، سینیٹر اور وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے اور اس وقت وہ مسلم لیگ ق بلوچستان کے قائدین میں شامل ہیں

کراچی میں سابق نگران وزیر اعلیٰ نصیر مینگل کے پوتے مطیع الرحمان اور بھانجے سمیع الرحمان فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ گذشتہ شب ڈیفنس میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے نصیر مینگل کی کار پر فائرنگ کی جس میں دونوں نوجوان زخمی ہوگئے۔

نصیر مینگل کا کہنا ہے کہ ان کی قبائلی دشمنی ہے جبکہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ان کے خاندان پر پہلے بھی حملہ کر چکی ہیں۔

نصیر مینگل کا تعلق بلوچستان کے ضلعے خصدار سے ہے، وہ جنرل ضیاالحق اور پرویز مشرف کے دور میں حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔

چار دہائی کے سیاسی سفر میں وہ صوبائی وزیر، سینیٹر اور وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے اور اس وقت وہ مسلم لیگ (ق) بلوچستان کے قائدین میں شامل ہیں۔

وڈھ میں مینگل قبیلے کے سردار عطااللہ مینگل اور نصیر مینگل کے خاندانوں میں عرصہ دراز سے سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔

قوم پرست جماعتوں نے جب سنہ 2000 میں بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل یہاں سے تحصیل ناظم منتخب ہوئے بعد میں اسی نشست پر سردار عطااللہ کے پوتے اسد اللہ مینگل نے کامیابی حاصل کی۔

دونوں خاندانوں میں کشیدگی اس وقت اور بڑھ گئی جب سنہ 2005 میں سردار عطااللہ مینگل کے گھر پر راکٹ حملہ ہوا جس کا الزام شفیق مینگل پر عائد کیا گیا۔

گذشتہ عام انتخابات میں اسی حلقے کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سردار اختر مینگل اور نصیر مینگل کے بڑے بیٹے عطاالرحمان کا مقابلہ ہوا جس میں سردار اختر کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

کراچی میں گذشتہ شب پیش آنے والے واقعے سے پہلے بھی دو فریق ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

سنہ 2001 میں کوئٹہ میں شفیق مینگل کے گھر پر بم دھماکہ ہوا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے، بعد میں بلوچستان لبریشن آرمی نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ درویش بلوچ نامی خودکش بمبار نے یہ حملہ کیا تھا۔

کوئٹہ میں شفیق مینگل کے گھر کے برابر میں مقتول بلوچ رہنما بالاچ مری، حربیار مری اور نواب خیر بخش مری کی رہائش گاہیں بھی واقع ہیں، دھماکے کی وجہ سے شفیق مینگل کے گھر کی دیوار منہدم ہوگئی تھی۔

اس دھماکے کا مقدمہ سردار عطااللہ مینگل کے بڑے بیٹے جاوید مینگل اور حربیار مری کے خلاف درج کیاگیا تھا۔

گذشتہ سال خضدار میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کا مقدمہ شفیق مینگل اور دیگر کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں