لکھوی کی رہائی پر خوشی یا غم؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمٰن لکھوی کو حکومتِ پنجاب چار بار نظر بند کرچکی ہے

عام پاکستانی کو نہیں معلوم کہ ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کے خاتمے اور رہائی پر خوشی کا اظہار کرے یا غم کا۔ خوشی اس بات پر کہ ایک بےقصور شخص کو اتنے طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا یا غم اس پر کہ حکومت پاکستان اور بھارت مل کر ایک ملزم کو مجرم ثابت نہیں کرسکے۔ عمومی طور پر اس سلسلے میں ملے جلے جذبات ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کی حکومتیں ذکی الرحمٰن لکھوی کے مقدمے میں ثبوتوں کی صحت پر ہی لڑ لڑ کر تھک گئیں لیکن جو فیصلہ وہ چاہتی تھیں وہ سامنے نہ آسکا۔ حکومتِ پنجاب نے 14 مارچ کو ذکی الرحمٰن لکھوی کی چوتھی بار نظربندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ آخر کب تک ایسا چلتا۔ ممبئی حملوں میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ان کا مقدمہ آٹھ برس بعد بھی شروع نہ ہوسکا۔

تعلقات کی بہتری تو دور کی بات دونوں ممالک کے درمیان یہ چھوٹا سا مقدمہ بھی کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔ اس میں رسائی کے مسئلے اور قانونی پیچیدگیوں نے دونوں کو کسی نتیجے پر پہنچنے سے روک دیا۔

ماضی کی طرح اور کچھ تو نہیں ہوگا بس دہلی اور اسلام آباد ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایں گے اور بس۔ نہ بات آگے بڑھے گی اور نہ پیچھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت کے عدم تعاون کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہوا اور سرکاری مقدمہ کمزور ہوگ: پاکستان

پاکستانی وزارت خارجہ نے پہلے ہی بیان میں اس رہائی کی وجہ بھارت کے عدم تعاون کو قرار دیا جس سے قیمتی وقت ضائع ہوا اور سرکاری مقدمہ کمزور۔ بند کمرے میں عدالتی کارروائی کی وجہ سے میڈیا کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی رائے قائم کرسکتا کہ کارروائی کتنی شفاف ہے یا نہیں اور شواہد کی صحت کیسی ہے۔

پاکستانی میڈیا نے بھی اس خبر کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ایک بڑے انگریزی کے اخبار نے اسے بیک پیج پر جبکہ دوسرے نے یک کالمی خبر کے طور پر شائع کیا۔ یہی صورتحال سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بھارتی شہری بڑھ چڑھ کر پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ’اگر پشاور سکول حملہ ہوا تو اچھا ہوا‘ لیکن اس کے جواب میں پاکستان سے کوئی زیادہ جوابی ٹویٹس نہیں کی جا رہی ہیں۔

ایک ہی قابل ذکر ٹویٹ سابق رکنِ پارلیمان فرح ناز اصفہانی کی طرف سے ہے جس میں اس رہائی کو ’شرمندگی‘ اور پاکستان کے ’سافٹ ایمیج کے لیے‘ برا قرار دیا گیا ہے۔

دانشور رضا رومی نے اسے لکھوی کے لیے ’بلآخر انصاف‘ قرار دیا۔

اسلام آباد میں سرکاری حلقوں میں اس بات کا احساس تو پہلے ہی تھا کہ بھارت اور امریکہ دونوں اس پر پیش رفت پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اس کا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی شاید اندازہ لگا چکی تھی کہ سب سے پہلے تو بیانات کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔ اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی گذشتہ روز لکھوی کی رہائی کے بعد امریکہ اور بھارت دونوں نے پاکستانی حکام کو اپنی جانب سے’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔

لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ بات بیانات سے آگے بڑھ کر کہاں تک جا سکتی ہے اور اُس صورت میں پاکستان کس قسم کا لائحہ عمل اپنانے کے لیے سوچ بچار کرے گا۔

اسی بارے میں