برفانی چیتا:’خطرناک ہے مگر آمدن کا ذریعہ بھی تو ہے‘

برفانی چیتا
Image caption برفانی چیتے کی نسل تیزی سے ناپید ہوتی کا رہی ہے

شکار اور بے جا انسانی مداخلت کی وجہ سے برفانی چیتا نایاب ہوتا جا رہا ہے اور اس وقت اس کا شمار دنیا میں جانوروں کی تیزی سے ختم ہوتی اقسام میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے دور افتادہ شالی علاقوں میں مقامی لوگ اس سے ڈرتے تھے لیکن اب ان کی روزی روٹی اس تیزی سے ختم ہوتی نسل کو بچانے سے بھی چلتی ہے۔ دنیا کے خطرناک ترین جانور کے ساتھ رہنا کیسا ہے، بی بی سی کے ہمارے نامہ نگار الیاس خان نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔

ریٹائرڈ سکول ماسٹر حاصل مراد خان پولیس کو ’انتہائی تشویش والی بات‘ بتانے کے لیے جلدی جلدی جا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’رمان میں لڑکوں نے برفانی چیتا دیکھا ہے اور اس سے پہلے کہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش آئے میں اسے رپورٹ کرنے آیا ہوں۔‘

مراد خان چترال کے دور افتادہ پہاڑی گاؤں رمان میں امدادِ باہمی کی ایک انجمن کے سربراہ بھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جتنی جلدی وہ اپنے افسران کو اس کے متعلق بتائیں گے اتنا جلدی ہی وہ متعلقہ حکام کو کسی کارروائی کے لیے مطلع کریں گے۔ توقع ہے کہ ایک گھنٹے میں ہی گاؤں میں کچھ پولیس والے بھیج دیے جائیں۔

عام طور پر انتظامیہ اتنی تیزی سے حرکت میں نہیں آتی، خاص کر اتنی دور افتادہ جگہ پر لیکن برفانی چیتے کا تحفظ حکام اور کمیونٹی دونوں کے لیے ہی اہم ہے۔

اگرچہ یہ نایاب اور خوبصورت جانور مال مویشیوں کے لیے ایک خطرہ ہے لیکن پھر بھی اس کے تحفظ کے لیے معقول حد تک سرمایہ کاری کے پروگرام چلائے گئے ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی سے وابستہ برفانی چیتوں کے ماہر ڈاکٹر علی نواز کہتے ہیں کہ چرواہوں کی یہ برادریاں اپنے مال مویشیوں پر بہت حد تک انحصار کرتی ہیں۔

قانون کے مطابق سب گوشت خور جانوروں کا تحفظ ضروری ہے اور برفانی چیتے کے علاقے میں تقریباً سبھی برادریوں کا حکومت اور بین الاقوامی برادریوں کے ساتھ معاہدہ ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برفانی چیتا نہایت خوبصورت مگر خطرناک جانور ہے

اس کے بدلے میں ان برادریوں کے ذریعہ معاش اور ماحول کی بہتری کے منصوبوں میں معقول حد تک سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور اگر ان کا کوئی فرد جنگلی حیات کو نقصان پہنچاتے دیکھا گیا تو سرمایہ کاری میں کمی ہو سکتی ہے۔

لیکن جو پروگرام مقامی برادریوں کے لیے بہت سرمایہ لاتا ہے وہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام تھا جو کہ حکومتِ پاکستان نے 1990 کی دہائی میں شروع کیا تھا۔

اس پروگرام کے مطابق جو برادریاں اس بات پر راضی ہیں کہ وہ گوشت خور جانوروں کا شکار نہیں کریں گی، جن میں برفانی چیتا بھی شامل ہے، انھیں شکار کے لیے بہت ہی پرکشش سالانہ پرمٹ دیے جاتے ہیں جو کہ وہ غیر ملکی شکاریوں کو بیچ دیتے ہیں۔

کسی کسی سال تو برفانی چیتے کے علاقوں میں شامل دیہاتوں کی یہ انجمنیں ٹرافی ہنٹنگ یا شکار کے پرمٹوں سے سات سے آٹھ لاکھ ڈالر تک بنا لیتی ہیں۔

وہ انجمنیں جو اپنے مال مویشیوں کو بہتر طریقے سے پالتی ہیں ان کے پاس زیادہ بکریاں ہیں اور اس لیے انھیں زیادہ پرمٹ ملتے ہیں۔

جس سے برفانی چیتے کا بھی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ جنگلی بکریوں کا شکار کرتا ہے۔

ورلڈ وائڈلائف فنڈ چترال کے فیلڈ آفیسر شفیق اللہ خان کہتے ہیں کہ جتنا پہاڑی چراگاہوں پر دباؤ کم ہو گا، اتنا ہی جنگلی برکیاں زیادہ ہوں گی اور برفانی چیتے جو ان کا شکار کھاتے ہیں ان کے بھی بچنے کا امکان زیادہ رہے گا۔

لیکن ان سب کوششوں کے باوجود مال مویشی اقتصادیات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ ابھی بھی بہت بنیادی سطح کی ہی ہے۔

اور اس سے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان ایک لڑائی جاری رہتی ہے۔ ہر سال خبریں آتی ہیں کہ برفانی چیتے نے مال مویشی کھا لیے اور غصے میں بھرے کسانوں نے برفانی چیتے کو یا تو گولی مار دی یا پھر اسے زہر دے کر ہلاک کر دیا۔

ڈاکٹر نواز کہتے ہیں کہ انتقام لینے کے لیے مارنا سوچے سمجھے بغیر ایک ردِ عمل ہے اور یہ جاری ہے کیونکہ وہ برادری بھی جو اسے ناپسند کرتی ہے حکام یا امداد دینے والوں کی ناراضی کے ڈر سے اسے چھپانا پسند کرتی ہے۔

اور اس کی وجہ بدلتا ہوا ماحول ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’1947 سے لے کر اب تک برفانی چیتے کے علاقوں میں انسانی آبادی چار گنا زیادہ بڑھی ہے اور مال مویشی 40 سے 60 فیصد۔‘

اس کے مقابلے میں جنگلی بکریوں کی آْبادی 50 فیصد کم ہوئی ہے اور تقریباً ان کے آدھے علاقے میں مال مویشی پالے جا رہے ہیں اور کھیتی باڑی کی جاری ہے۔

ڈاکٹر نواز کے مطابق پاکستان میں 200 سے 400 کے درمیان برفانی چیتے ہیں لیکن ان کو قائم رکھنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی بہت زیادہ مدد درکار ہے۔

اس تناظر میں پولیس والوں اور وائلڈ لائف رینجرز کی دور افتادہ دیہات میں تعیناتی برادریوں اور حیاتیات کے محافظوں کے درمیان استحکام کا پہلو ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برفانی چیتے سے سب سے زیادہ خطرہ مقامی چرواہوں کی بکریوں کو ہے

رمان گاؤں میں حاصل مراد خان نے حکام کو برفانی چیتے کے نظر آنے کی جگہ کی تمام تفصیل مہیا کی ہے۔

’میرا بیٹا بطخوں کے تلاب کے پاس تھا اور اس نے اسے خود دیکھا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے چھوٹے کان تھے، گنبد نما چہرہ اور دم ایسی جیسے بل کھاتی ہوئی پانی کی نلی۔‘

لیکن اس طرح کی تفصیل اس علاقے میں ایک سرکاری رسمی کارروائی ہے۔ اس علاقے کے لوگ لومڑی اور بھیڑیے اور سیاہ گوش اور برفانی چیتے کے درمیان فرق اچھی طرح جانتے ہیں۔

انھیں تو یہ بھی معلوم ہے کہ کون سے جانور کس راستے پر پائے جاتے ہیں۔

خان کہتے ہیں کہ شاید وہ اس پہاڑی پر غیر آباد چراگاہ کی طرف گیا ہے، جہاں اکثر برفانی چیتے سردیوں میں جاتے ہیں۔

جب اسے وہاں کھانے کو کچھ نہ ملا تو وہ رمان گولوگھے گھاٹی کی طرف سے دریا کی طرف نکل گیا۔

’وہاں موجود لڑکوں نے اس پر پتھر پھینکے اور وہ دریا کا کنارہ چھوڑ کر بطخوں کے تلاب کی طرف نکل گیا اور دوسرے کنارے کی طرف چلتا ہوا درختوں کے پیچھے چلا گیا۔‘

شاید اب مغرب میں کچھ دور ہی برفانی چیتا اپنے شکار کی تلاش میں ہو۔

اسی بارے میں