منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع

Image caption الطاف حسین کی ضمانت میں جولائی تک توسیع

لندن میں منی لانڈرنگ کے معاملے میں زیرِ تفتیش پاکستانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ضمانت میں نو جولائی تک توسیع کردی گئی ہے۔

الطاف حسین کی ضمانت 14 اپریل کو ختم ہوئی اور یہ تیسرا موقع ہے کہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی ہے۔

الطاف حسین کو سکاٹ لینڈ یارڈ کا عملہ منگل کی صبح لندن کے مقامی وقت کے مطابق 10 بجے ان کی رہائش گاہ ایجویئر سے سدرک پولیس سٹیشن لایا تھا۔

ان کے ساتھ گاڑی میں ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ندیم نصرت اور پارٹی کے وکیل بیرسٹر سیف بھی موجود تھے۔

ایم کیو ایم کے قائد سے تقریباً پانچ گھنٹے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔

الطاف حسین کی گاڑی پولیس سٹیشن سے چند قدم پر ہی روک دی گئی اور انھیں بیرسٹر سیف گاڑی سے باہر لائے۔

کالے سوٹ میں ملبوس الطاف حسین کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔

برطانوی شہریت اختیار کرنے والے الطاف حسین نے گاڑی سے نکلتے ہی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے عوام سے دعا کرنے کی اپیل کی۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اور وہ ان کو چھوڑنے کے بعد پولیس سٹیشن سے چلے گئے۔

سدرک پولیس اسٹیشن کے باہر مقامی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔

سڑک پر گزرتے بہت سے برطانوی نژاد پاکستانیوں نے بی بی سی کے عملے سے پوچھا کے یہاں کیا ہورہا ہے۔

جب انھیں تفصیلات بتائی گئیں تو ان میں سے ایک نے کہا ’اب باہر آنا مشکل ہے۔ اس بار لمبے گئے‘ جبکہ ایک اور راہگیر نے کہا کہ ’جاپانی جوتے، جرمن گاڑیاں اور برطانوی پولیس تینوں دھوکہ نہیں دیتیں‘۔

خیال رہے کہ لندن میں پولیس نے پانچ دسمبر سنہ 2013 کو متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے گھر پر چھاپے کے بعد شروع کیے جانے والے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں مغربی لندن سے دو گھروں پر چھاپے مار کر دو افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس کے بعد تحقیقات کے دوران تین جون 2014 کو پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا اور سات جون کو انھیں ابتدائی تفتیش کے بعد جولائی 2014 تک ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

تاہم بعد میں ان کی ضمانت میں 14 اپریل 2015 تک توسیع کر دی گئی تھی۔

بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔

اسی بارے میں