’کسانوں کو کچھ بچے گا تبھی وہ بِل ادا کریں گے‘

Image caption آج کل جب علاقے میں گندم کٹ رہی ہے تو شرافاں بی بی کے مکان کا بیرونی برآمدہ اور عقبی کمرہ نومبر کے تصادم کے سیاہ داغ محفوظ کیے ہوئے ہیں

یہ پرانی خبر ہے لیکن پاکستان کے ہزارہا کسانوں کے گزرے کل، آج اور آنے والے کل کے خدشات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

16 اور 17 نومبر 2014 کو ضلع بہاولنگر کے قصبے مروٹ میں کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں شرافاں بی بی کی کپاس جل گئی جو بیرونی برآمدے کے عقبی کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔ تب انھوں نے گندم کی فصل بوئی تھی۔

کسانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی

16 نومبر کی شب مقامی پولیس مبینہ اشتہاریوں کو گرفتار کرنے شرافاں بی بی کے چک341 پہنچی تو وہاں کے کسانوں نے پولیس اہلکاروں کو گھیر لیا۔ مساجد میں اعلانات ہوئے تو قریبی دیہات کے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ پولیس اہلکار اپنا آپ بچا کر نکل گئے لیکن اگلی صبح مروٹ کے بیشتر دیہات پر سینکڑوں کی تعداد میں چھاپے مارے تو کسانوں کے فرار ہونے کی باری آ گئی۔

پولیس کے دھاوے کی اطلاع ملتے ہی شرافاں بی بی اپنے بچوں کے ساتھ برآمدے کے عقبی کمرے میں رکھی ہوئی کپاس میں چُھپ گئیں اور دروازے کو کُنڈی لگا دی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’شیل گرنے سے کپاس کو آگ لگ گئی، دروازہ توڑ کر بچوں کی جانیں بچائیں۔‘

تقریباً 12 گھنٹوں کے وقفے سے دونوں واقعات پر دو مقدمے درج ہوئے۔ پولیس اہلکاروں کی مدعیت میں اِن مقدمات میں مروٹ کی شرافاں بی بی کے شوہر سمیت، سوا سو کسان معلوم اور ساڑھے تین سو کسان نامعلوم ملزمان نامزد کیے گئے۔

Image caption مروٹ کے تصادم نے پاکستان کسان اتحاد کی احتجاجی مہم میں نئی روح پھونک دی

مروٹ میں اِس تصادم کا لاوا دو برسوں سے اُبل رہا تھا جب پاکستان کسان اتحاد نامی تنظیم کے مقامی سربراہ عامر وٹو نے بجلی کے ٹیوب ویل کے بِلوں میں مبینہ طور استعمال سے زائد یونٹ ڈالے جانے کے خلاف احتجاجی مہم کا آغاز کیا۔ کسانوں نے اپنے حساب کتاب کے مطابق اضافی بِل دینا چھوڑ دیے اور مظاہرے کرنے لگے۔

مروٹ کی تحصیل فورٹ عباس میں پولیس کے سربراہ عابد وڑائچ کے مطابق یہ علاقہ ’نو گو ایریا‘ بن گیا تھا۔ وہ شرافاں بی بی کی کپاس جلنے یا چک میں موجود ٹریکٹروں، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور عامر وٹو کے گھر میں موجود تمام اشیا کو تہس نہس کیے جانے کی ایک ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر آئی، میں اِس الزام کو مسترد کرتے ہیں تمام تباہی پولیس کے اہلکاروں نے پھیلائی۔

مروٹ کے تصادم نے پاکستان کسان اتحاد کی احتجاجی مہم میں نئی روح پھونک دی جو ٹیوب ویل کے بِلوں کے تنازعے پر دو سال قبل وجود میں آیا تھا۔ کسانوں کے چندے سے بننے والا یہ اتحاد، اضافی بِل ادا نہ کرنے اور مقامی سطح پر مظاہرے کرنے جیسے حربوں کے ذریعے احتجاج کر رہا تھا۔ لیکن مروٹ کے تصادم کے بعد ناصرف مختلف شہروں کی سڑکیں بلاک کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا بلکہ مہم میں شریک سینکڑوں کسانوں نے لاہور کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔

Image caption کسان بورڈ کے جام حضور بخش کے بقول ’ایک تحریک بن رہی ہے جو بے چینی بڑھائے گی اور اُنھیں لاقانونیت کی طرف لے جائے گی‘

ایسے ہی ایک مارچ کی اوکاڑہ میں اتحاد کی تمام لیڈر شِپ سمیت درجنوں معلوم اور چھ ہزار نامعلوم افراد کے خلاف ایک ایف آئی آر درج ہوئی۔

پنجاب میں انجمنِ مزارعین سے منسلک فاروق طارق حکام اور کسانوں کے درمیان ٹیوب ویل کے بِلوں سے پیدا ہونے والی چپقلش کو غیر معمولی قرار دیتے ہیں۔

کسانوں کی پرتشدد تحریک: سنیے

’کئی بار حکومت نے وعدے کیے کہ آپ کا یہ مسئلہ حل کر دیں گے۔ وعدوں کے باوجود بھی مسئلہ حل نہ ہوا اور حکومت اِنھیں سبق سکھانے ہر تُلی ہوئی ہے۔ تصادم کی فضا ہے جو پہلے پنجاب میں نہیں تھی۔‘

فاروق طارق کھیت چھوڑ کر سڑکوں پر آنے والے کسانوں کے رویے کی زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے کسان بورڈ کے مرکزی نائب صدر جام حضور بخش تشدد کی حمایت نہیں کرتے لیکن اُن کے مطابق، کسان حکومتی حکمتِ عملی کے باعث فصل در دوسری فصل پر نقصانات کے بعد پُرتشدد راستہ اپنانے پر مجبور ہوئے۔

Image caption قصبے کےسینکڑوں کسانوں نے اِس خوف سے آواز اُٹھانا چھوڑ دی ہے

کسان ویژن فورم کے خواجہ شعیب بھی بِلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہیں لیکن اُن کے بقول ’کسانوں کو کُچھ بچے گا تبھی وہ بِل ادا کریں گے۔‘

غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ پنجاب کے کِسانوں کی احتجاجی مہم کی شدت کم ہونے کی امید گندم کی فصل سے لگائی جا سکتی ہے۔

اُدھر مارچ کے آخری ہفتے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کسان اتحاد نے بِلوں کی درستی، مقدمات کے خاتمے اور تمام کسانوں کی گندم کی سرکاری ریٹ پر خریداری کے تین مطالبات پیش کیے ہیں جن کا حکومت کی طرف سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔

اتحاد کے چیئرمین چودھری انور متنبہ کرتے ہیں کہ ’کسان بیچارہ کپاس میں نقصان میں چلا گیا۔ چاول میں نقصان میں چلا گیا۔ گنے کی فصل میں نقصان میں چلا گیا۔ آلو کی فصل میں نقصان میں چلا گیا۔ اگر اِس سے گندم نہ خریدی گئی تو پورے ملک میں بھوک کا اتنا بڑا طوفان آئے گا کہ یہ حکومت کیا، کسی حکومت کے بس میں نہیں ہو گا۔‘

پنجاب کے کسان لاہور میں داخل نہیں ہوئے اور اپنے مطالبات صوبائی حکومت کے سامنے رکھنے کے بعد گندم کی کٹائی کا بندوبست کرنے میں لگ گئے ہیں۔

مروٹ کی شرافاں بی بی نے بھی گندم سنبھالنے کا انتظام اُسی برآمدے میں کیا ہے جہاں اُن کی کپاس جل گئی تھی۔ گندم کی کاشت تک کپاس اِس لیے سنبھالی ہوئی تھی کہ شاید دیر سے بیچنے پر بھاؤ ٹھیک لگ جائے۔ گندم کاٹنے کی مشین جل کر ناکارہ حالت میں برآمدے کے باہر پڑی ہے۔ آج کل جب علاقے میں گندم کٹ رہی ہے تو شرافاں بی بی کے مکان کا بیرونی برآمدہ اور عقبی کمرہ نومبر کے تصادم کے سیاہ داغ محفوظ کیے ہوئے ہیں۔

مروٹ میں شاید ہی کوئی کسان ہو جس پر ’سرکاری اہلکاروں سے اوزار چھین لینے‘ پر ڈکیتی یا اِنہیں حراساں کرنے پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ نہ ہو۔ عامر وٹو پولیس کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ حکام کے مطابق اُن سمیت مروٹ کے دیہات میں بیس کروڑ روپے سے زائد رقم کے ٹیوب ویل کے بِل واجب الادا ہیں۔

Image caption عامر وٹو پولیس کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں

قصبے کےسینکڑوں کسانوں نے اِس خوف سے آواز اُٹھانا چھوڑ دی ہے کہ کہیں اُن کا نام نومبر میں درج ہونے والے مقدموں کے نامعلوم افراد کی جگہ نہ بھر دیا جائے۔ بیشتر کسانوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ گندم نے سہارا دیا تو حکومت کے ساتھ قسطوں کے حساب سے لین دین کرکے بجلی کے ٹیوب ویل کٹوا دیں گے اور ہو سکا تو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگوا لیں گے۔

لیکن اگر گندم میں بھی نقصان ہوا تو کسان بورڈ کے جام حضور بخش کے بقول ’ایک تحریک بن رہی ہے جو بے چینی بڑھائے گی اور اُنھیں لاقانونیت کی طرف لے جائے گی‘۔ کسان بورڈ نے بھی آئندہ اکتوبر میں کسانوں کو لاہور اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے لیے مختلف شہروں میں جلسے کرنے شروع کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں