ڈرون حملے روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کا حکم نہیں دیا جا سکتا: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کے مطابق ڈرون حملوں کے خلاف درخواست عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں آتی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ڈرون حملوں کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی کہ وہ حکومت کو ڈرون حملے روکنے کے لیے جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کرسکتی۔

عدالت عظمیٰ نے پیر کو یہ ریمارکس وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے سے متعلق دائر درخواست پر دیے جسے سید محمد اقتدار حیدر نے دائر کیا تھا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے جاری ہیں جن میں مشتبہ افراد کے ساتھ ساتھ بےگناہ افراد بھی مارے جار ہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بےگناہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر ان ڈرون حملوں کو نہ روکا گیا تو پھر کل ان حملوں کا دائرہ وسیع بھی ہوسکتا ہے اور یہ حملے پشاور اور لاہور میں بھی ہوسکتے ہیں۔ سید اقتدار حیدر کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے بھی لوگوں کے قتل عام کے مترادف ہے لہذا اس کو روکنے کے لیے عدالت حکومت کو احکامات جاری کرے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ درخواست عدالتی دائرہ اختیار یعنی آئین کے آرٹیکل 184 کے زمرے میں نہیں آتی اور ایسے حالات میں کسی طور پر بھی ان حملوں کو روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے۔

واضح رہے کہگذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں کنٹری چیف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی طرف سے ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کریں گے۔

اس درخواست پر حکومت کا موقف ہے کہ ان امریکی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسی بارے میں