گھر سے ’ناراض‘ ہو کر نکلے ’خودکش بمبار‘

Image caption ’امی نے ابراہیم کو کہا تھا کہ گھر میں بیٹھ کر مفت کی روٹیاں کھا رہے ہو جاکر باہر کام کرو جس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا اور کوئی پتہ نہیں چلا‘

محمد عالم اور ابراہیم جب گھر سے ناراض ہوکر نکلے تو بیٹے اور بھائی تھے لیکن کئی ماہ بعد جب گولیوں سے چھلنی لاشیں گھر پہنچیں تو پولیس انھیں خودکش بمبار قرار دے چکی تھی۔

کراچی کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 16 سالہ محمد عالم اور 18 سالہ محمد ابراہیم پیر کی صبح کورنگی کے علاقے خیر آباد میں پولیس مقابلے میں دیگر تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے، جن کی شناخت منگل کے روز کی گئی ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی محمد عارف حنیف کا کہنا ہے کہ اس مبینہ پولیس مقابلے میں القاعدہ جنوبی ایشیا کا مقامی کمانڈر نور الحسن، نائب کمانڈر عثمان عرف الیاس اور ابراہیم عرف الیاس سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو خودکش بمباروں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں خودکش بمباروں کی شناخت محمد عالم اور ابراہیم بنگالی کے نام سے کی گئی ہے جو دونوں کورنگی بلال کالونی کے رہائشی اور کئی ماہ سے گھروں سے لاپتہ تھے۔

مبینہ بمبار ابراہیم کی شناخت اس کی بہن مرجان نے کی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر ٹی وی نہیں ہے، پڑوسیوں نے آگاہ کیا کہ ابراہیم کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جس کے بعد وہ فوری طور پر ایدھی سرد خانے چلے گئے جہاں بھائی کی شناخت کی۔

22 سالہ ابراہیم چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ مرجان کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل اس کی ماں سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ’امی نے ابراہیم کو کہا تھا کہ گھر میں بیٹھ کر مفت کی روٹیاں کھا رہے ہو جاکر باہر کام کرو جس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا اور کوئی پتہ نہیں چلا۔‘

ابراہیم کی بہنیں کرائے کے گھر میں رہتی ہیں اور کپڑوں پر موتی لگانے کا کام کرتی ہیں۔ مرجان کا کہنا ہے کہ ان کے آگے پیچھے کوئی نہیں، اگر کوئی ہوتا تو ابراہیم کے پیچھے ضرور جاتا۔

دوسرے مبینہ بمبار 16 سالہ محمد عالم کی شناخت والد محمد اسماعیل نے کی جو فیکٹری مزدور ہیں۔ محمد عالم کے رشتے دار فرید عالم نوری نے بتایا کہ عالم گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے لاپتہ تھا۔ گذشتہ روز ٹی وی پر دیکھا اور صبح اخباروں میں تفصیلات پڑھ کر ایدھی سینٹر پہنچے۔ ایدھی حکام نے پولیس لیٹر لے کر آنے کو کہا جس کے بعد لاش ان کے حوالی کی گئی ہے۔

فرید عالم کے مطابق والد نے محمد عالم کو منع کیا تھا کہ غلط لڑکوں کے ساتھ اٹھا بیٹھا نہ کرو جس پر وہ ناراض ہوکر گھر سے نکل گیا۔ انھوں نے تمام رشتے داروں کے پاس تلاش کیا لیکن کوئی رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

فرید عالم کے مطابق محمد عالم کے سینے پر گولیوں کے تین نشانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کی لاشیں ساتھ ملی ہیں وہ ان کو نہیں جانتے لیکن لگتا تو یہ ہے کہ سارے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ’بمبار‘ صرف چند ماہ قبل ہی افغانستان کے صوبے ہلمند سے واپس آئے تھے اور پولیس نے چھاپے کے وقت بم بنانے کی فیکٹری بھی برآمد کی ہے۔ کمانڈر نورالحسن بم بنانے میں مہارت رکھتا تھا۔

اس سے پہلے رواں سال جنوری میں ملیر پولیس نے سہراب گوٹھ میں القاعدہ کے کراچی میں کمانڈر کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کی شناخت پرویز عرف پرو جتوئی کے نام سے کی گئی تھی اور وہ بھی بلال کالونی کا ہی رہائشی تھا۔

Image caption ’محمد عالم کے سینے پر گولیوں کے تین نشانات موجود ہیں اور جن کی لاشیں ساتھ ملی ہیں ان کو نہیں جانتا لیکن لگتا تو یہ ہے کہ سارے ایک دوسرے کو جانتے تھے‘

پرویز جتوئی کی ماں کا دعویٰ تھا کہ اس کے بیٹے کو پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔ ان کے پاس پولیس سربراہان اور وزیر اعلیٰ کو بھیجی گئیں فیکس درخواستیں بھی موجود ہیں۔

پرویز کی عمر بھی 18 اور 19 سال کے درمیان تھی۔ ابراہیم اور محمد عالم کی طرح وہ بھی زیادہ تعلیم یافتہ نہیں صرف پڑوس کے مدرسے میں پڑھتا تھا۔

کورنگی بلال کالونی صنعتی علاقے کے قریب واقعے آبادی ہے جہاں مقامی سندھی، پشتون کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن بنگالی اور برمی کمیونٹی بھی رہتی ہے۔ اس پسماندہ علاقے میں صفائی اور پینے کے پانی سمیت محدود سہولیات دستیاب ہیں۔

صحافی ضیا الرحمان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بنگالی اور برمی اپنے بچوں کو مدارس میں پڑھاتے ہیں۔ اسی علاقے میں تحریک طالبان کے علاوہ سپاہِ صحابہ اور دیگر جہادی اور شدت پسند تنظیمیں بھی اثر رسوخ رکھتی ہیں۔

سی ڈی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ کی حال ہی میں تشکیل دی گئی ذیلی تنظیم القاعدہ جنوبی ایشیا بنگالی اور برمی آبادیوں میں زیادہ سرگرم نظر آرہی ہے۔

ماضی میں القاعدہ کی جانب سے بڑے اہداف کو نشانہ بنایا جاتا تھا اور تنظیم میں قدرے تعلیم یافتہ لوگ ملوث ہوتے تھے تاہم حالیہ دنوں میں غیر تیکنیکی اور غیر تربیت یافتہ ملزمان کا تعلق القاعدہ کے ساتھ ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں