پریڈی تھانہ ہی نشانے پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر میں جاری حالیہ آپریشن کے دوران اعجاز خواجہ نے کچھ اہم ملزمان کو گرفتار کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ضلع جنوبی کے تھانے پریڈی کے ایس ایچ او اعجاز خواجہ کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح اختر کالونی کے علاقے ڈیفنس موڑ پر پیش آیا۔

ڈی آئی جی جنوبی جمیل احمد کا کہنا ہے کہ جائے واردات سے پانچ سو گز کے فاصلے پر ایس ایچ او اعجاز خواجہ کا گھر واقع ہے اور وہ محافظ اور بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر اپنی کار میں عام لباس میں نکلے تھے۔

ڈی آئی جی کے مطابق ’ایک موٹر سائیکل سوار ان کی ریکی کر رہا تھا جبکہ ایک سڑک پر موجود تھا، جیسے وہ موڑ پر پہنچے تو سڑک پر موجود لڑکے نے چلتی گاڑی پر فائر کیا لیکن وہ جان لیوا ثابت نہیں ہوا، انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسی دوران کار سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرانے کےبعد گرین بیلٹ پر چڑھ گئی اور حملہ آور نے قریب جا کر دو فائر کیے جو جان لیوا ثابت ہوئے۔‘

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر شاہراہ فیصل کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ڈی آئی جی جمیل احمد کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہی نتیجہ ہے لیکن فی الحال اس کے پیچھے کارفرما مقصد اور گروہوں کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کا دعویٰ ہے کہ ’ایس ایچ او اعجاز خواجہ کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہ ایک پولیس افسر تھے اور کئی مقدمات کی تحقیقات کر رہے ہوں گے، ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی ایسا مقدمہ ہو، جس کا جلد پتہ لگایا جائے گا۔‘

کراچی پولیس کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری حالیہ آپریشن کے دوران اعجاز خواجہ نے کچھ اہم ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن کی سیاسی وابستگی تھی جس کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

اعجاز خواجہ گزشتہ چند برس میں پریڈی تھانے سے تعلق رکھنے والے چھٹے افسر ہیں جنھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

شہر کے وسط میں واقع پریڈی تھانے کی حدود میں جہاں الیکٹرانک اور موبائل فون کی مارکیٹوں سمیت موٹر سائیکل کی بھی مارکیٹ موجود ہے وہیں شہر کی مرکزی شہراہ ایم اے جناح روڈ کا بھی ایک بڑا حصہ اس کی حدود میں آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں جاری آپریشن کے بعد پولیس پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے

پریڈی تھانہ کے افسران اور اہلکار گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل نشانے پر ہیں۔

جولائی 2010 میں پریڈی کے قائم مقام ایس ایچ او ناصر الحسن کو ڈرائیور سمیت قتل کیا گیا تھا جو 1992 کے کراچی آپریشن میں بھی شامل رہے تھے۔

اس کے ایک ماہ بعد کارساز دھماکے کی بھی تحقیقات میں شامل ڈی ایس پی پریڈی رب نواز رانجھا کو ڈرائیور سمیت ایم اے جناح روڈ پر ریڈیو سٹیشن کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2013 میں پریڈی تھانے کے ایس ایچ او آغا اسداللہ صدر کے علاقے مرشد بازار کے قریب گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے۔

اگست 2014 میں ایس ایچ او پریڈی غصنفر علی کاظمی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ گھر سے کار میں تھانے کی طرف آ رہے تھے۔ انسپکٹر کاظمی بھی 1992 آپریشن میں شریک رہے تھے۔

اس کے علاوہ تھانہ پریڈی کی پولیس موبائلیں بھی تین مرتبہ دستی بم حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن چکی ہیں۔

شہر میں جاری آپریشن کے دوران شدت پسند اور سیاسی تنظیموں کے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں سے بعض دوران تفتیش پولیس اور رینجرز پر حملوں کا بھی اعتراف کر چکے ہیں۔

ان گرفتاریوں کے دوران پولیس پر حملوں میں صرف رواں سال کے چار ماہ میں 34 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں