’اورکزئی ایجنسی میں دس شدت پسند ہلاک‘

Image caption حکومت نے حال ہی میں قبائلی علاقوں سے بے داخل ہونے والے متاثرین کی واپسی کا اعلان کیا ہے جن میں اورکزئی کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کارروائیاں جاری ہیں جن میں جمعرات کو چھ شدت پسند گرفتار جبکہ دس ہلاک کر دیے گئے۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح اورکزئی ایجنسی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز نے فضائی حملے کیے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ اس زمینی کارروائی میں شدت پسندوں کے تین ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے، اور یہ کارروائی فوجی آپریشن خیبر ٹو ہی کا تسلسل ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ون اور خیبر ٹو آپریشن پاکستا ن کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں چند ماہ پہلے شروع کیے گئے تھے۔

ایک روز قبل بھی اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے فضائی حملوں میں چار شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان کارروائیوں میں کم سے کم 12 شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ حالیہ کارروائی وسطی اورکزئی کے ان علاقوں میں کی گئی ہے جہاں چند دن پہلے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اس علاقے میں شیخان اور مشتی قبائل آباد ہیں۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مارچ 2010 میں اورکزئی ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایجنسی کے بیشتر مقامات شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے تھے تاہم وسطی اورکزئی میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

آپریشن کے باعث لاکھوں افراد نے بے گھر ہو کر ہنگو اور دیگر علاقوں میں پناہ لی تھی جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں قبائلی علاقوں سے بے داخل ہونے والے متاثرین کی واپسی کا اعلان کیا ہے جن میں اورکزئی کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں