صوفی محمد پر عائد بغاوت کے مقدمے عام عدالت میں بھیجنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوفی محمد تحریکِ طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کے سسر ہیں

پشاور میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے خلاف دائر بغاوت کے دو مقدمات کو عام عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ احکامات سنیچر کو سنٹرل جیل پشاور میں قائم انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے جج عبدالرؤف خان نے ملزم کی طرف سے دائرہ کردہ درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کیے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ان مقدمات میں سے دہشت گردی ایکٹ کی دفعات خارج کرتے ہوئے انھیں سیشن جج سوات کی عدالت میں بھیج دیا جائے۔

خیال رہے کہ صوفی محمد کے خلاف درج مقدمات میں سے کبل میں پولیس تھانے پر حملے کے مقدمے کو پہلے ہی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر عام عدالت میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

ملزم کے وکیل عادل مجید نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل صوفی محمد پر حکومت کی طرف سے 2009 میں بغاوت کے دو مقدمے درج کیےگئے تھے جس میں دہشت گردی ایکٹ کو شامل کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں مقدمے صوفی محمد کی طرف سے جلسے منعقد کروانے کی بنیاد پر بنائے گئے تھے جس میں ملزم کی طرف سے آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف سخت بیانات دیےگئے تھے۔

عادل مجید نے کہا کہ قانون کے تحت ایسے بیانات دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے لہذا اس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے ملزم کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں مقدموں سے دہشت گردی ایکٹ کو ختم کر دیا اور دونوں مقدموں کو سوات کے سیشن جج کی عدالت میں سننے کا حکم جاری کر دیا۔

وکیل صفائی کے مطابق ملزم صوفی محمد کے خلاف کل 13 مقدمے درج تھے جن میں بغاوت اور کبل میں پولیس تھانے پر حملہ کرنے کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان 13 میں سے دس مقدموں میں صوفی محمد پہلے ہی بری ہوچکے ہیں جبکہ تین مقدمے ان کے خلاف بدستور زیر التواء ہیں۔

ٹی این ایس ایم کے سربراہ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کے سسر صوفی محمد کو 26 جولائی2009 کو پشاورسے ان کے دو بیٹوں ضیاء اللہ اور رضوان اللہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

صوفی محمد کے کالعدم تنظیموں سے روابط کی وجہ سے ان کے خلاف دائر تمام مقدموں کی سماعت سنٹرل جیل پشاور کے اندر قائم خصوصی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں