پاکستان اور چین میں اقتصادی راہداری کے معاہدے

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption مسلح افواج کے ایک دستے نے چینی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں میں 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں۔

دو روزہ دوسرے پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین نے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’آج ہم نے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہے اور ہمارے تعلقات کا اہم جزو مستقل مزاجی ہے۔‘

اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ اس سے تمام صوبوں کو فوائد ملیں گے اور اس سے پاکستان خطے میں اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہو گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی راہداری چین کے لیے بھی ایشا کے مختلف ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک تک رسائی اور وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک سستا راستہ ثابت ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ راہداری امن اور خوشحالی کی علامت بنے گی۔‘

چین کے صدر شی نے پاکستان کے عوام اور حکومت کا پرجوش استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ کہ دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔

شی جن پنگ نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ واس سلسلے میں پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔

صدر شی نے بھی وزیراعظم نواز شریف کی طرح اپنے ملک کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو اہم قرار دیا: ’ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو چین کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ترجیحی رخ پر رکھتے ہیں۔‘

اپنے خطاب میں چین کے صدر نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا ذکر بھی لیا اور کہا کہ وہ کہتے تھے کہ صرف مشترکہ اور مسلسل محنت ہی ہمارے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کر سکتی ہے۔

چین کے صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ پاکستان اور چین افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر متفق ہیں تاکہ وہاں امن اور استحکام ہو۔

چین کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک بلوچستان کی تعمیرو ترقی کے لیے میں مفت معاشی مدد فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان طےپانے والے معاہدوں میں سے 30 سے زائد اقتصادی راہ داری سے متعلق ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس میں گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ کے پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ، کراچی اور لاہور موٹر وے سمیت انرجی سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم اور چین کے صدر نے مل کر آٹھ منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔

اس سلسلے میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریب میں دونوں ممالک کے سربراہان سمیت وزرا اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شی جن پنگ اور نواز شریف کی چینی وزیرِ اعظم کی ملاقات میں سنکیانگ میں سرگرم علیحدگی پسندوں کے پاکستانی شدت پسندوں کے مبینہ تعلقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا قوی امکان ہے

پیر کی صبح پاکستان کے شہر راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر چینی صدر کے استقبال کے لیے پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیرِ اعظم نواز شریف کے علاوہ اعلیٰ حکام موجود تھے۔

یہ گذشتہ نو برسوں میں کسی بھی چینی صدر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ کے علاوہ چینی وزرا، کمیونسٹ پارٹی کے رہنما، اعلیٰ حکام اور چینی تجارتی کمپنیوں کے سربراہان بھی پاکستان آئے ہیں۔

وہ اس دورے کے دوران اعلیٰ پاکستانی حکام سے بات چیت کے علاوہ منگل کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔

چینی صدر نے گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاہم اسلام آباد میں جاری تحریکِ انصاف کے دھرنے کی وجہ سے سکیورٹی بنیادوں پر انھیں یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ چین ملک میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں میں تقریباً 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

اس کے علاوہ چینی بینک پاکستان کو آسان شرائط پر 12 ارب ڈالر کے قرضے بھی دیں گے اور یہ رقم انفراسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں خنجراب میں پاکستان اور چین کی سرحد سے لے کر بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شامل ہیں

چین میں پاکستانی سفیر خالد مسعود نے بھی چند روز قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی منصوبہ اب ڈرائنگ بورڈ سے نکل کر عمل کی سٹیج تک پہنچ چکا ہے۔

’یہ منصوبہ ایک سال کی مدت کے دوران اب اس سٹیج تک پہنچ چکا ہے کہ اب اس پر عملی کام شروع ہونے کی دیر ہے۔ اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ چینی صدر کے دورے کے دوران یہ کام بھی شروع ہو جائے گا۔‘

اسلام آباد میں سخت سکیورٹی

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption چین کے صدر کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی کے دوران شہر کے اندر بھی مختلف شاہراہیں بند رہیں گی

چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شی جن پنگ اور اُن کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے 111 بریگیڈ کو سونپی گئی ہے جبکہ رینجرز اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس بھی اس ضمن میں فوج کی معاونت کرے گی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے چینی صدر کی پاکستان میں موجودگی کے دوران وفاقی دارالحکومت میں بھاری ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا ہے جبکہ ایئرپورٹ روڈ کو بھی دو روز کے لیے چھ چھ گھنٹے تک بند رکھا جائے گا۔

چین کے صدر کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی کے دوران شہر کے اندر بھی مختلف شاہراہیں بند رہیں گی۔

اسی بارے میں