چین کا مغربی سرحدی علاقوں میں استحکام میں پاکستانی کردار کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین کی مغربی سرحد کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان نے جو کچھ کیا ہے، وہ چین کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

منگل کو پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں چینی صدر نے خطے میں استحکام اور شدت پسندی کے خلاف پاکستانی کوششوں کی بار بار تعریف کی۔

’گذشتہ چند سالوں میں پاکستان نے چین کے مغربی سرحدی علاقوں پر موجود تمام مشکلات پر قابو پا لیا ہے اور وہاں سکیورٹی اور استحکام قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو ہم کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔‘

چینی صدر نے شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس لڑائی میں جتنی قربانی دی ہے، اسے چین میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

’پاکستان نے شدت پسندی سے لڑتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں انھوں نے خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

چینی صدر نے پاکستان میں سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے میں پاکستان کو بھرپور مدد کا یقین بھی دلایا۔

’چین پاکستان کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے اس کی مدد کرے گا۔ ہم پاکستان میں بڑھتے ہوئے غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پاکستان کی جانب سے افعانستان میں مفاہمت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

’پاکستان اور چین کی دوستی اب دو طرفہ امور سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب ہمیں علاقائی اور عالمی معاملات پر تعاون بڑھانا چاہیے۔ چین افغانستان میں پاکستان کے مثبت کردار کی حمایت کرتا ہے اور وہاں مفاہمت اور پر امن انتقالِ اقتدار کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔‘

خیال رہے کہ چین کے صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران اقتصادی راہداری سمیت سرمایہ کاری کے 51 معاہدوں پر دستخط کیا ہے۔

شی جن پنگ دو روزہ دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ یہ نو برس میں کسی چینی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔

انھوں نے کہا باہمی اعتماد پر مبنی یہ دوستی ’ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے‘ اور آئندہ نسلوں کے لیے اثاثہ ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ ’پاکستان اچھا دوست، اچھا ہمسایہ اور اچھا بھائی ہے‘ اور وہ اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شی جن پنگ نے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان کو اہم قرار دیا ہے

چینی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور چین ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور چین پاکستان سے باہمی اقتصادی تعاون کو مکمل تحفظ دے گا۔

اقتصادی راہداری کے بارے میں بات کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ یہ باہمی ترقی کا منصوبہ ہے اور چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں درپیش ہر رکاوٹ دونوں ملک مل کر دور کریں گے۔

انھوں نے چین کی ون چائنا پالیسی کے لیے پاکستانی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستانی ارکانِ پارلیمان سے خطاب سے قبل شی جن پنگ نے پارلیمانی رہنماؤں کے وفد سے بھی ملاقات کی جس کی سربراہی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور چین نے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں

اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی دوستی نسلوں پرانی ہے اور اب سٹریٹیجک شراکت درای میں تبدیل ہو رہی ہے۔

شی جن پنگ نے پیر کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

چینی صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم نے ملاقات کے بعد پیر کی شام مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر شی جن پنگ نے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو چین کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ترجیحی مقام پر رکھتے ہیں۔‘

چین کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے میں مفت معاشی مدد فراہم کرے گا۔

انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ کے پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ، کراچی اور لاہور موٹر وے سمیت توانائی کے شعبے کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں میں 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں۔

چینی صدر نے پارلیمنٹ ہاؤس سے خطاب کے بعد ایوان صدر میں صدر پاکستان ممنون حسین سے وفود کی سطح پر اور تنہائی میں ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر پاکستان اور مہمان صدر کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاوہ عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

صدر پاکستان نے پاکستان کی جانب حالیہ بھارتی رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہمیشہ مخلصانہ طور پر تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کیں لیکن بھارت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی کی گئی۔

صدر مملکت نے بھارت کی جانب سے حال ہی میں اسلحے کی خریداری پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کے اس عمل سے خطے میں اسٹٹریٹیجک عدم استحکام پیدا ہو گا۔

صدر مملکت نے چینی کہا کہ پاک فوج کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کسی تفریق اور وابستگی سے بالا تر ہو کر کارروائی کی جارہی ہے۔

صدر پاکستان نے کہا: ’ایسٹ ترکستان موومنٹ سے نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے استحکام کو بھی خطرہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی جیسی برائیوں کے خلاف چین کی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں

اسلام آباد میں سخت سکیورٹی

چینی صدر کے پارلیمان سے خطاب کے موقع پر بھی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

صدر نے پارلیمان سے صبح ساڑھے نو بجے خطاب کرنا تھا لیکن ارکان ِ پارلیمان میں ایک گھنٹہ قبل ہی آنے کی ہدایت کی گئی۔

قانون نافذ کرنے والے اداوں کے اہلکاروں نے پارلیمان کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے تھے۔

خیال رہے کہ شی جن پنگ اور اُن کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے 111 بریگیڈ کو سونپی گئی تھی جبکہ رینجرز اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس بھی اس ضمن میں فوج کی معاونت کرے گی۔منگل کی سہ پہر اپنا دو روزہ دورہ پاکستان مکمل کر کے وطن واپس لوٹ گئے۔

اسی بارے میں