بیچنے کو ہے کیا؟

  • 21 اپريل 2015
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور چین دو طرفہ تجارتی حجم 15 ارب ڈالر سے بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں

جوتے، پرس یا پھر لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے مٹانے کے لیے ایمرجنسی لائٹ، کھلونے سب کچھ چین سے آ رہا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ تاریخی دورے پر پاکستان آئے۔ اس دورے کے دوران جہاں ’ہمالیہ سے بلند‘ اور ’سمندر سے گہری‘ دوستی کے نعرے بلند کیےگئے، وہیں اس اعتماد اور شراکت داری کو عملی شکل دینے کے لیے کئی معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔

’راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں‘

چین اور پاکستان نے آئندہ تین برسوں میں تجارتی حجم 15 ارب ڈالر سے بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے کئی معاہدے ہو چکے ہیں۔

پاکستان اور چین نے سنہ 2006 میں دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ آزادانہ تجارت کے اس معاہدے پر عمل دآرمد یکم جولائی 2007 سے شروع ہوا تھا۔ یہ آزادانہ تجارت کا معاہدہ پاکستان کے لیے کتنا سود مند ثابت ہوا؟ اس کا اندازہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم سے لگایا جا سکتا ہے۔

آٹے میں نمک کے برابر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کے ساتھ آزادنہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی مد میں نقصان ہو رہا ہے

سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اور چین کے لیے درمیان موجودہ تجارت 15 ارب ڈالر ہے جس میں پاکستان نے چین کو ساڑھے چار لاکھ ڈالر کی مصنوعات فروخت کی ہیں جبکہ اس عرصے میں تقریباً دس ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پاکستانی منڈیوں تک پہنچیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان دوستی تو ہمالیہ سے بلند ہے لیکن چین کی بڑی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس حقیقت کا ادراک حکومتی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان نے حالیہ دورے میں تسلیم کیا کہ تجارتی توازن پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔

اور پاکستان کی وزارتِ کامرس کے حکام چین کی مشاورت سے آزادنہ تجارت کے ایک اور معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ’فری ٹریڈ ایگریمنٹ ٹو‘ کا مقصد پاکستانی مصنوعات کی چین کی منڈیوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہے۔

پاکستان کےحکام نے کئی بار کہا ہے کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی مدد میں سالانہ 22 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان چین کو کیا بیچ سکتا ہے اور کیا پاکستان کے پیداواری شعبے میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ چین جیسی بڑی معیشت میں اپنی جگہ بنا سکے؟

اقتصادی تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی سے وابستہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر وقار احمد کہتے ہیں کہ پاکستان بجلی کے بحران کی وجہ سے یورپی منڈیوں میں ملنے والی مراعات جی ایس پی پلس درجہ سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعات کے علاوہ خدمات یا سروسز چین کو برآمد کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر وقار احمد کہتے ہیں کہ ’چین میں ہنر مند افراد کی ضرورت ہے، انھیں ڈاکٹر اور انجنیئر چاہیے۔ چین ہنر مند افراد کے لیے بڑی منڈی ہے اور پاکستان چین کو افرادی قوت دے سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں 30 لاکھ پاکستانی شہری ملازمت کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر وقار احمد کہتے ہیں کہ چین میں مزدورں کی اجرت پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے، اس لیے وہاں تیار کپڑے یا ریڈی میڈ گارمنٹس مہنگی ہیں۔ پاکستان گارمنٹس برآمد کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں چمڑے سے بنی پاکستانی مصنوعات کی مانگ زیادہ ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی حجم 20 ارب ڈالر تک بڑھنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر وقار کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے وہ پیداواری شعبے جو درآمدی خام مال پر انحصار کرتے ہیں، ڈیوٹیاں نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی کاروباری لاگت کم ہوئی ہے۔‘

کاروباری شعبے کی پریشانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گوادر پورٹ سے چین کو دیگر ممالک تک رسائی میں آسانی ہوگی

دوسری جانب پاکستان کے بعض کاروباری شعبے چین کے ساتھ تجارتی روابط بڑھنے سے متفکر ہیں اور کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ چین کی سستی مصنوعات سے ملکی سطح پر تیار ہونے والی بعض اشیا متاثر ہوئی ہیں۔

کراچی چمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کے سابق صدر میاں ابرار کہتے ہیں کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی پاک چین اقتصادی شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

میاں ابرار نے کہا کہ ’پاکستان زرعی مصنوعات، ڈیری مصنوعات اور گوشت چین کو برآمد کر سکتا ہے اور اس سےفائدہ ہوگا لیکن خود بھی اپنی صلاحیت بڑھانا ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ چین کے مغربی علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اُن علاقوں میں حلال فوڈ کی بڑی مارکیٹ ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر وقار کہتے ہیں کہ ’ایسا ملک جہاں بجلی نہیں، سکیورٹی کے مسائل ہیں اور اقتصادی شرح نمو کم ہے وہاں چین کی طرف سے سرمایہ کاری کے اعلان سے کاروباری طبقے کو اعتماد ملا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چین پاکستان میں بجلی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں منصوبوں پر کام کرے گا جس سے پاکستان کی معیشت بھی ترقی کرے گی: ’چین تو رقم فراہم کر رہا ہے لیکن اقتصادی راہداری مکمل کرنے کے لیے ہمیں پہلے اپنے ملک میں چیزوں کو ٹھیک کرنا ہے۔‘

پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری کے 30 سے زائد معاہدے کب تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قابل از وقت ہے لیکن چین کے صدر کا پاکستان کا دورہ کرنے اور 45 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کرنے کے اعلان سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ضرور بحال ہوا ہے۔

اسی بارے میں