چین میں قید پاکستانیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت چین میں 260 پاکستانی قید ہیں

پاکستان کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ چین کی عدالتوں سے مختلف نوعیت کے مقدمات میں سزا پانے والے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے اور بقیہ سزا پاکستان میں کاٹنے کے لیے چینی حکام سے مذاکرات چل رہے ہیں۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں واقفۂ سوالات میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی خالدہ منصور کی طرف سے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت چین میں 260 پاکستانی قید ہیں جن میں سے چین کی مختلف عدالتوں کی طرف سے 193 پاکستانیوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ان افراد میں سے اکثریت منشیات کی سمگلنگ، قتل اور مالیاتی جرائم میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ چین میں منشیات کی سمگلنگ کی سزا موت ہے اور اس سے پہلے بھی ایک پاکستانی کو منشیات کے مقدمے میں موت کی سزا دی جا چکی ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ 67 افراد مختلف حراستی مراکز میں قید ہیں اور ان پر بھی قتل اور منشیات کی سمگلنگ جیسے سنگین الزامات ہیں تاہم ابھی تک ان افراد کے خلاف عدالتی کارروائی شروع نہیں ہو سکی۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین میں پاکستانی سفارت خانے کا عملہ ان افراد کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اُنھیں قانونی معاونت فراہم کی جا سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزارت کے اُن افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا جو بیرون ممالک منشیات کے مقدمات میں سزا پانے والے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے تھے لیکن یہ افراد پاکستان واپس آکر روپوش ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایسے تین افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کے بقول یہ کام کرنے کے لیے منشیات کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں