کراچی میں ضمنی انتخابات کا معرکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی مہم کے دوران عمران دو بار اپنی بیگم ریحام خان کے ہمراہ جلسوں سے خطاب کرنے کراچی پہنچے

کراچی میں جمعرات قومی اسمبلی کے حلقے این اے 246 میں ضمنی انتخابات کا معرکہ ہو رہا ہے، جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنور نوید جمیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور تحریک انصاف کی عمران اسماعیل اور پاسبان عثمان معظم سمیت نصف درجن امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

یہ نشست ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی نبیل گبول کے مستعفی ہونے کے باعث خالی قرار دی گئی تھی، اس حلقے میں 1970 سے 1985 تک جماعت اسلامی، 1988 سے 2013 تک متحدہ قومی موومنٹ اور 1993 میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے مسلم لیگ بھی کامیابی حاصل کرچکی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کا گھر بھی اس حلقے میں واقع ہے، جہاں کئی حکومت بنانے اور گرانے کے سیاسی اتحاد ہوچکے ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے برعکس اa ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس عرصے میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز پر چھاپے کے بعد سو سے زائد کارکن و ہمدرد گرفتار کیے گئے، ان دنوں ہی پھانسی کی سزا کے منتظر سابق کارکن صولت مرزا کا متنازعہ بیان سامنے آیا جبکہ سابق رکن اسمبلی نبیل گبول بھی الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے ۔

گجر نالے اور ملیر ندی کے درمیان میں واقع یہ حلقہ عزیز آباد، لیاقت آباد، فیڈرل بھی ایریا، ایف سی ایریا، موسیٰ کالونی اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کل ووٹروں کی تعداد 3 لاکھ 57 ہزار سے زائد ہے، جن میں دو لاکھ کے قریب مرد ووٹر ہیں۔

تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں میں اس ضمنی انتخابات کے دوران مسلسل کشیدگی رہی اور صورتحال اس وقت سنگین ہوگئی جب تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل جناح گراونڈ پہنچ گئے جس کے بعد گورنر سندھ کی ثالثی سے معاملات کو حل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین متعدد بار جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں

تحریک انصاف نے اس مہم کا مقصد شہر میں طاری خوف وہ ہراس کا خاتمہ قرار دیا، اس انتخابی مہم کے دوران عمران دو بار اپنی بیگم ریحام خان کے ہمراہ جلسوں سے خطاب کرنے کراچی پہنچے، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے تین بار اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے متعدد بار انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔

ان ضمنی انتخابات کے لیے کچھ نئے قاعدے قانون بھی سامنے آئے، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مطالبے کے بعد رینجرز نے بھی بائیو میٹرک نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا، لیکن الیکشن کمیشن نے فنی طور پر تیاری مکمل نہ ہونے پر اس مطالبے کو مسترد کردیا۔

حلقے کے 213 پولنگ اسٹیشنوں پر کلوز سرکٹ کیمرہ نصب ہوں گے، رینجرز کا ایک اہلکار پولنگ اسٹیشن کے اندر اور ایک باہر تعینات ہوگا جبکہ رینجرز افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے، ان انتخابات میں پریزائیڈنگ افسران کو موبائل فون کے استعمال کی بھی اجازت ہے اس سے پہلے یہ روایت نہیں ملتی۔

پریزائیڈنگ افسران کا انتخاب پورٹ قاسم اور نیشنل بینک سمیت دیگر وفاقی اداروں سے کیا گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ افسران صوبائی محکمہ بلدیات اور محکمہ تعلیم سے بھی تعینات کیے جاتے تھے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا الزام ہے کہ ان اداروں میں ایم کیو ایم کا اثر رسوخ موجود ہے جس کے بعد ان اداروں کے ملازمین کو افسر تعینات نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق تین بار اس حلقے میں جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں

ضلعی وسطی میں انتخابات کے باعث موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے جبکہ افسران سمیت سات ہزار پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ رینجرز نے پہلے ہی شہریوں پر واضح کردیا ہے کہ وہ اصل شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھیں نقول قابل قبول نہیں ہوں گی۔

سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی اتحادیوں کے ساتھ صف بندی کی ہے، شیعہ تنظیمیں اختلافات کا شکار نظر آتی ہیں، تحفظ عزاداری، جعفریہ الائنس نے متحدہ قومی موومنٹ، جبکہ متحدہ مجلس وحدت مسلمین نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا، تحریک انصاف کو سنی تحریک اور جمعیت علما پاکستان نورانی گروپ کی بھی حمایت حاصل ہے۔

مسلم لیگ ن اور جمیعت علما اسلام ف نے جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اہل سنت و الجماعت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاسبان نے ان سے حمایت کے لیے رابطہ کیا تھا، انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ آئیں مشترکہ پریس کانفرنس میں حمایت کا اعلان کیا جاسکتا ہے لیکن وہ ابھی تک نہیں آئے۔

اسی بارے میں